ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

"تجربہ” جنگ کی ہولناکی پر لکھا گیا شہر بانو کا مختصر اور شاہکار افسانہ

سنہری دھوپ پرندے کے سفید پروں پر پڑتی اور وہ روپہلے ہو جاتے۔ پرندہ آج بہت خوش تھا۔ اس نے پیٹ بھر دانہ چُگا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ پانی میں کھیلا تھااور اب بادلوں کی چھوٹی بڑی ٹکڑیوں سے بھرے آسمان کے نیچے دیر تک اڑنا چاہتا تھا۔

خوشی اس کی زبان سے چہچہے بن کر پھوٹنے لگی اور نئی بہار کی ٹھنڈی ہوا اس کے سینے سے سکھ بن کر لپٹی تو پرندے نے اُس کے استقبال کو بازو کھولے اور آنکھیں موندے ہوا میں ساکت تیرنے لگا۔

اسے جنگل سے گزرتی ندی کے چوڑے پاٹ پر یونہی اڑتے بہت دیر ہو گئی تو اس نے اپنی حسین، کالی اور دانائی سے پُر آنکھوں سے واپسی کا راستہ ماپا۔ میں زیادہ دور نہیں آیا۔ اس نے دو، چار بار پروں کو پھڑپھڑا کر پھر سے ہوا میں معلق کر لیا۔ کچھ دیر بعد اس نے پھر سے واپسی کا راستہ دیکھا اور مڑنے کو ہوا میں لمبی اڑان بھری۔ اب وہ پانی کی قربت میں اڑنا چاہتا تھا۔ مگر جیسے ہی وہ ہوا میں بلند ہوا، ایک ہولناک دھماکے نے اس کے کان سُن کر دیئے۔ پرندہ ہڑبڑا گیا مگر اڑان کے عادی پروں نے اسے سنبھالا دیا اور مزید بلندی پر لے گئے۔ پھرایک اور گولی چلی اور اس کے پروں کو چھو کر نکل گئی۔ پرندہ ہر ممکنہ تیزی سے اپنے گھر کی سمت لپکا۔ اسے خطرے کی حد سے نکلنے کو صرف چند لمحے درکار تھے۔ اس نے اپنے طاقتور پروں کو پوری قوت سے جھٹکا۔ اتنی شدت سے کہ پر آپس میں ٹکرانے لگے اور ان کی آواز دور تک سنائی دینے لگی۔

وہ جانتا تھا کہ بلندی پر رہنا خطرناک ہو سکتا ہے سو اس نے سانس لینے کی ساری طاقت بھی پروں کو پہنچائی اور ندی کی طرف غوطہ لگایا۔ اس سے بہت دور، اس کے ساتھی ، دھماکوں کی آوازیں سن کر اپنے محفوظ ٹھکانوں کی جانب اُڑ چکے تھے۔ پرندے نے ان کے بارے میں سوچنے پر وقت ضائع کیے بغیر پرواز جاری رکھی۔ تبھی تیسرا دھماکہ ہوا اور ہوا اس کے پروں کی گرفت سے نکل گئی۔ درد کی رگوں کا خوابیدہ جال ایک جھٹکے سے جاگا اور اس کے سارے بدن سے لپٹ گیا۔

کشش ثقل کی ظالم شدت نے اسے تیزی سے اپنی جانب کھینچا اور پرندے نے گرتے ہوے بھی ہوا کو پکڑنے کی کوشش جاری رکھی۔ درد سے اس کی آنکھیں مندنے لگیں تو اس نے پروں کا بچا کھچا زور بھی آنکھوں کو کھلے رکھنے کی جدوجہد میں لگا دیا۔ مگر اس سے نہ گرنے کی رفتار میں کمی آسکی اور نہ ہی درد کی شدت میں۔ بالآخروہ پوری رفتار کے ساتھ پانی سے ٹکرایا اور پھردھیرے سے اس میں ڈوبنے لگا۔ پچھلے چند لمحے کی قیامت خیزی یک دم پر سکون ہوگئی۔ ٹھنڈے پانی نے اس کے زخم پر پھاہا رکھا اور اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ پرندے کے درد سے تھکے ہوئے پر، پانی کی نرمی اور ٹھنڈک پر آرام کرنا چاہتے تھے مگر وہ جانتا تھا کہ یہ چند لمحے کی مہلت ہے۔

شکاری کتوں کی آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں، اس نے ایک لمحے کو آنکھیں موندیں اور آج کے دن کی ساری خوشی پروں میں بھر کر انہیں پورے زور سے پھڑپھڑایا۔ ”اس کی آنکھوں میں اب صرف اپنے گھونسلے کو لوٹنے کی چاہ تھی” پرندے نے خود کو آوپر اٹھانے کی کوشش کی اور اس بار ہوا نے اچھے دوست کی طرح اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ پرندہ پانی کی سطح کے ساتھ ساتھ اڑتا جنگل میں غائب ہو گیا۔

جس وقت سست رفتاری سے اڑتا ہوا، وہ اپنے گھونسلے تک پہنچا، تب تک شام ڈھل چکی تھی اور اس کی مادہ بے چینی سے ہوا میں چکرا رہی تھی۔ پرندہ تھکن اور درد سے اٹے پروں کو سمیٹتا، بہت آہستگی اور خاموشی سے اپنے گھر میں اترا۔ ‘اس کی سنجیدگی جنگ سے لوٹے ان سورماوں جیسی تھی جو جیت کی خوشی اورہار کے دکھ کی بجائے، زندگی اور موت کے تصادم کی گھمبھیرتا لیے واپس لوٹتے ہیں’۔ وہ بھی ایک اور تجربہ کی پختگی سے گزر کر مزید حسین ہو گیا تھا مگر اس کے روپہلے پر، لہو سے لال ہو چکے تھے۔

 

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...