ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

سیدہ میری مالکہ سلام اللہ علیھا

میں تاریخ کا کیڑا ہوں خصوصا اسلامی تاریخ کا۔ واقعات و شخصیات کو پڑھنا اور عقل پر پرکھنا میری اچھی یا بری عادت رہی ہے۔ مگر ایک نام ہے، ایسا نام جسکے آتے ہی میرا نظریں جھک جاتی ہیں، ہونٹ کپکپانے لگتے ہیں، زبان گنگ ہو جاتی ہے، قلم گونگا بن جاتا ہے اور نظریں، نجانے کیوں دھندلا جاتی ہیں۔ میں فورا ایک ایسا بچہ بن جاتا ہوں جو بھوک سے روتا ماں کو اس یقین سے دیکھتا ہے کہ وہ اسے بھوکا نہیں مرنے دے گی۔ ایک ایسا غلام بن جاتا ہوں جو غلامی کے عوض بک گیا ہو۔ یہ نام سیدہ، طاہرہ، زاہرا، میری مالکہ جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ہے۔

مگر اپنے عقیدت میں ڈوبے عقیدے سے اٹھ کر بھی دیکھوں تو وہ روشنی کا مینارہ اور عورت کی عظمت کا استعارہ ہیں۔ اپنی فقط اٹھائیس سالہ حیات کے باوجود، رہتی دنیا تک وہ ہر عورت کیلیے ایک ایسا رول ماڈل ہیں جو نہ تو گھر میں مقید ایک باندی ہیں کہ دنیا سے کچھ واسطہ نہیں اور نہ ہی گھر سے نکلی ایسی خاتون کے جن سے گھر کی ذمہ داریاں ادھوری چھوٹ جائیں۔ میرے آقا(ص) اگر ایک مرد کامل ہیں تو سیدہ(ر) ایک خاتون کامل۔ چودہ سو برس قبل کے معاشرے میں عورت کیلیے اپنے کردار کی پختگی اور عظمت ثابت کرنے کیلیے تین روپ تھے۔ بیٹی، بیوی اور ماں۔ سیدہ(ر) نے بلاشبہ ہر روپ میں خود کو اکمل ثابت کیا۔

بعثت سے پانچ سال قبل جب حضرت خدیجہ (ر) پچاس برس سے ذیادہ کی ہو چکیں، سیدہ (ر) نے اشرف ترین گھر میں جنم لیا۔ میرے آقا(ص) کی دیگر صاحبزادیاں بیاہی جا چکیں تھیں اور سب سے چھوٹی اور کمزور سی سیدہ(ر) ماں باپ کی تمام تر تر توجہ اور محبت کا مرکز تھیں۔ بعثت سے قبل جب میرے صاحب(ص) حرا کی بلندی پر غور و فکر کرتے تھے تو بیٹی والدہ کے ساتھ نیچے خیمہ لگائے نظریں اٹھا اٹھا کر انکی منتظر رہتی تھیں۔ اعلان نبوت کے بعد جب ہمارے آقا(ص) پر کڑا وقت آیا تو بیٹی والد کی محبت میں بے قرار بھاگ اٹھتی تھیں۔ بدبخت نے جب کعبہ میں سر اقدس پہ اوجری ڈال کر گستاخی کی، تو معصوم بیٹی ننھے ہاتھوں سے گند ہٹاتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں۔ اکثر بدزبان منکروں کے جھرمٹ سے والد کو ہاتھ پکڑ کر گھر لے آتیں۔ طائف کے جسمانی زخم ہوں یا شعب ابی طالب کے روحانی گھاو، سیدہ(ر) نبی کریم (ص) کی ڈھارس کا باعث تھیں۔ بیٹیوں کو باپ ویسے بھی بہت پیارے ہوتے ہیں۔ مگر یہاں تو غمگسار والدہ کی بیماری اور پھر وفات کے بعد بیٹی نے والد کا خیال یوں رکھا کہ عرب انھیں ام ابیہا، یعنی اپنے باپ کی ماں پکارنے لگے۔ اور والدہ کی وفات سے اپنی رخصتی تک انھوں نے اس لقب کا حق ادا کر دیا۔

 

والد کو بھی بیٹی سے شدید محبت تھی۔ اور سب سے چھوٹا بچہ تو ویسے ہی بہت لاڈلا ہوتا ہے۔ حضور(ص) نے سیدہ (ر) سے اپنی محبت کو ہمیشہ فخریہ دکھایا جو بیٹیاں دفنانے والے معاشرے میں ایک عجب بات تھی۔ والد نے جب بھی سفر کیا یا لوٹے، تو پہلے بیٹی کے گھر جا کر انکا چہرہ اور ہاتھ چومے۔ ان سے محبت کو خود سے محبت کا معیار بنا دیا۔ فرمایا
"فاطمہ( سلام اللہ علیھا) کی خوشنودی میری خوشنودی اور انکی ناراضگی میری ناراضگی ہے”۔ ان کو خاتون جنت قرار دیا۔ ان کا گھر اپنے گھر کے ساتھ مسجد نبوی (ص) میں بنوایا اور دونوں گھروں میں کھڑکی یوں رکھی کہ ہر صبح بیٹی کو سلام فرماتے تھے۔ میرے آقا(ص) نے خود سے ہوئی ہر زیادتی معاف فرمائی۔ مگر جانتے ہیں؟ فتح مکہ پر جن کا خون مباح کیا تھا ان میں حویرث بن نقیذ بھی تھا۔ جس نے ہجرت مدینہ کے موقع پر آقا(ص) کی بیٹیوں پر یوں حملہ کیا کہ سیدہ(ر) اونٹ سے گر گئیں اور چوٹ کھائی۔ سیدہ (ر) کے بدن اطہر پہ لگی چوٹ تو بھر گئی مگر باپ کے دل پہ لگی چوٹ کبھی نہ بھری۔ اور والد کی وفات نے بیٹی کے دل کو وہ گھاو دیا کہ فقط چھ ہی ماہ میں ان سے ملاقات کو پہنچیں۔

سیدہ(ر) کی شادی ہوئی تو ایک دارلفقر سے دوسرے دارلفقر منتقل ہو گئیں۔ معمولی سا جو جہیز لے کر وہ جناب علی المرتضی (ر) کے گھر تشریف لائیں، شاید وہی اس نئے گھر کا سب سے قیمتی سامان تھا۔ مگر مثالی زوجہ نے شوہر سے ذمہ داری بانٹ لی۔ باہر انکے حوالے کر کے خود گھر کی حکومت یوں سنبھالی کہ غربت نے بھی کبھی دست سوال دراز کرنے پر مجبور نہ ہونے دیا۔ ہاں دو بار مانگا تھا، ایک بار تو تسبیح فاطمہ(ر) عنایت ہوئی اور دوسری بار تاریخ ، جو شاید نہ پڑھی جائے تو بہتر۔ کام کر کر کے ہاتھوں کے چھالے اور مشکیزہ اٹھا اٹھا کر پھولے ہوے کندھے کے باوجود انا اور نسائیت کا وقار قائم رکھنے والی سیدہ(ر) نے آنے والی نسلوں کی ورکنگ وومن کیلیے جہد، صبر، خودداری اور برابری کا معیار طے کر دیا۔ اس سخت زندگی میں سکھ کے دن صرف فتح خیبر سے وفات حضور(ص) تک کے اس عرصہ میں آئے جب آقا(ص) نے انھیں فدک کا متولی مقرر کر دیا اور وہ بھی لونڈی رکھنے کے قابل ہوئیں۔ مگر مالکہ تو دیکھیے جو لونڈی سے کہ رہی ہیں کہ بہن ایک دن کام تم کرو گی اور ایک دن میں۔ سیدہ(ر) نے مالکی کا بھی وہ معیار رکھ دیا کہ جس پر آج بھی پورا اترنا مشکل۔ صرف دس سال رہنے والی اس شادی نے میاں بیوی میں محبت، برابری اور ذمہ داریاں بانٹنے کے اصول طے کر دیے۔

 

دس سال میں اللہ نے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ جب انتقال فرمایا تو جناب حسن(ر) سات، جناب حسین (ر) چھ، سیدہ زینب(ر) پانچ اور سیدہ ام کلثوم (ر) فقط تین برس کی تھیں۔ سوچتا ہوں ماں نے اس کم عرصے میں ہی اولاد کی کیا تربیت کر دی کہ آنے والے وقتوں میں جناب حسن (ر) تدبر اور جناب حسین (ر) شجاعت کے امام ٹھرے۔ اس تربیت میں کس قدر کاملیت تھی جس نے پانچ سال میں ہی سیدہ زینب (ع) میں وہ جرات، حق گوئی اور دلیری بھر دی کہ کربلا کے بعد وہ مظلومیت نہیں ظلم کے خلاف بغاوت کا نشان و استعارہ بن گئیں۔

سو دوستو، جناب سیدہ (ر) اپنے ہر روپ میں ایسی کامل عورت ہیں کہ بلاشبہ عورت کی عظمت، ہمت، محبت اور جرات کا ایک معیار ہیں۔ سیدہ(ر) تب بھی غلاموں کی دستگیر تھیں اور اب بھی مہربان ماں۔ میں کسقدر مذہبی ہوں یہ آپ سب ہی جانتے ہیں۔ مگر بارہ برس کے ایک بچے نے شہاب نامہ میں پڑھا، کہ اگر دو نفل پڑھ کر سیدہ(ر) کے حضور ایصال ثواب کیے جائیں اور سفارش کی درخواست، تو میرے آقا(ص) نہ اپنی زندگی میں بیٹی کی بات ٹھکراتے تھے نہ اب۔ خدا کی قسم میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ٹھکراتے۔ سیدہ(ر) کو مالکہ(ر) سمجھیے خواہ آپ کسی بھی مسلک سے ہیں۔ اور یاد رکھیے، باپ بیٹی کے معاملے میں بہت حساس ہوتا ہے، خواہ امام الانبیاء (ص) ہی کیوں نہ ہوں۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...