ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

سیدہ عائشہ اور سیدہ فاطمہ (رضی اللہ عنہما ) کی باہمی محبت

“یاروں ” نے ایسا عجیب ماحول بنا دیا ہے کہ اچھے بھلے صاحبان شعور بھی بے شعور ہو چلے – جھوٹ اور کذب سے ایسی تصویر کشی کی ہے کہ سامنے کی بات لوگوں کو نظر نہیں آتی – ایسا لگتا ہے کہ آل علی اور دیگر صحابہ بشمول ازواج النبی آپس میں کوئی متحارب گروہ تھے – یہی معاملہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور خواتین جنت کی سردار سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ہے – دونوں کی آپس میں ایسی محبت تھی کہ مثال کم ملے ، لیکن ماحول ایسا بنا دیا گیا کہ اجنبی اجنبی سی لگتی ہیں – آپ نے سیدہ فاطمہ کی فضیلت میں بھی سی احادیث ، سنی ہوں گی – لیکن کبھی یہ نہ کسی نے بتایا ہو گا کہ یہ خبر کس نے دی ؟ کون بتائے ، کیوں کر بتائے ؟
مسلک کے تعصب کے بت نہ ٹوٹ گریں گے — یہ مشھور حدیث کس نے نہیں سنی ہو گی کہ: ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اک روز سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے کان میں سرگوشی کی تو آپ رو دیں ، دوبارہ سرگوشی کی تو آپ ہنس دیں ”۔۔لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اس روز جب یہ ہوا ، آپ کہاں تشریف فرما تھیں ، پھر یہ قصہ ایسا مختصر کر سنایا جاتا ہے کہ بہت سو کڑیاں گول —
دوستو ! سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا اس روز اپنی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھی تھیں – جب آپ ہنس دیں تو کچھ ہی دیر بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اس رونے ہنسنے کا سبب پوچھا – بیٹی نے ناز سے کہا کہ میں کیوں بتاؤں ؟ اور بات آئی گئی ہو گی – پھر نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم فوت ہو گئے – ایک روز ماں کو یہ واقعہ یاد آیا تو بیٹی سے پھر پوچھ بیٹھیں …اب کے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ :
” ہاں اب میں آپ کو بتا سکتی ہوں ، پہلی سرگوشی میں آپ (نبی کریم ) نے فرمایا کہ جبرائیل ہر سال مارے ساتھ قران کا دور کراتے ہیں اس بار مگر انہوں نے دو بار قران سنایا ، اس سے گمان یہ ہے کہ میرا وقت رخصت آن پہنچا ہے ، اس پر میں رو دی – مرے رونے پر دوسری سرگوشی پر آپ نے فرمایا ” اے فاطمہ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو تم امت کی عورتوں کی سردار ہو “(١)
احباب ! اب اس بات کا تو بہت ذکر کیا جاتا ہے کہ آپ جنت کی عورتوں کی سردار تھیں ، لیکن یہ بات بتائی ہی نہیں کی جاتی کہ امت کو اس بات کی خبر کس نے دی ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات کس نے پوچھی ، جہاں یہ بات ہوئی وہ محفل کس کی تھی ؟؟؟
اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں کوئی تنگی ہوتی تو وہ کیونکر یہ روائیت کرتیں ؟ ظاہر ہے کہ ایسی بات تب ہی آگے کی جاتی ہے جب کسی کی محبت کا اظہار مقصود ہو ، کسی کی فضیلت بیان کرنا مطلوب ہو اور صرف یہی نہیں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کی اور بھی مشھور راویات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی منقول ہیں –
یہ روایت کس نے نہیں سنی کہ جب نبی کریم کے پاس کچھ غلام آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی مشقت کے پیش نظر ان میں سے ایک فرمائش کیا ..جس پر آپ نے ان کو وہ وظیفہ بتایا جس کو فاطمی وظیفہ بھی لوگ بولتے ہیں ، یعنی تینتیس بار سبحان اللہ ، الحمد للہ اور اللہ اکبر — لیکن مکمل قصہ کوئی بیان نہیں کرتا – قصہ یوں ہوا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یہ خبر ملنے کے بعد جب غلام کی فرمائش لیے اپنے والد محترم و مکرم کو ملنے گئیں تو ان کو وہاں موجود نہ پایا – اب سوال یہ ہے کہ کہاں موجود نہ پایا ، کس کے گھر گئیں جہاں والد نہ ملے ؟
جناب وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئیں تھیں – اور جب بندہ گھر سے نکلتا ہے تو بہتر سے بہتر امکانات کی امید میں نکلتا ہے – نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں – آپ کو خبر تو نہ تھی کہ آپ کہاں ملیں گے – سو بہترین امکان یہی تھا کہ بہترین فرد کے گھر جایا جائے – اور یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں – آپ ان کے ہاں پہنچیں اور والد محترم کو نہ پایا – اگر دل میں کوئی دوری ہوتی تو واپس چلی آتیں – بندہ دل کی بات اسی سے کر سکتا ہے کہ جس سے دل کا رشتہ ہو – سیدہ واپس نہ آئیں بلکہ اپنی ماں کو اپنی ضرورت بتا کر چلی آئیں – ممکن ہے کہ دل میں یہ بھی رہا ہو جو بیوی نبی کریم کو سب سے محبوب ہیں اگر ان کی زبان سے فرمائش آگے پہنچے تو کام آسان تر ہو جائے – یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، اپنی ماں جی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر مکمل اعتماد کرتی تھیں – اور ہاں یہ واقعے کے راوی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں -(٢)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منقبت میں اس کے علاوہ بھی بہت سی راوایات موجود ہیں ۔۔ جن کے ایک ایک لفظ سے آپسی محبت چھلکتی ہے – سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :  “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم کی بیٹھنے میں مشابہت کسی میں فاطمہ سے زیادہ نہیں دیکھی “(٣)   ایک بار کسی بات پر نبی کریم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں اختلاف ہوا تو سیدہ عائشہ نے فرمایا : ” اے اللہ کے رسول آپ فاطمہ سے پوچھ لیجئے کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتیں ” (٤)
آپ احباب سے سوال ہے کہ بندہ اپنی وکالت کے لیے ہمیشہ کس کو لے کے آتا ہے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ جس سے قلبی تعلق ہوتا ہے اور محبت – اہل اسلام میں جو چند ایسی احادیث ہیں کہ جن کو کہا جا سکتا ہے کہ کلمے کی طرح ہر مسلمان کو آتی ہیں – ان میں سے شائد یہ بھی ہو کہ جب کسی قبیلے کی عورت نے چوری کر لی اور اس پر سزاء کی معافی کی سفارش کے لیے محبت رسول سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کہا گیا – اس سفارش پر نبی کریم نے یہ تاریخی جملہ بولا کہ : ” والذي نفس محمد بيده لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها”. (٥) نبی کریم نے قسم کھا کے کہا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا –
اس حدیث کو ہمیشہ نبی کریم کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے انتہائی زیادہ محبت کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور حدیث کے الفاظ بھی اسی پر دلالت کراتے ہیں – جب انسان اپنی کسی ایسی بات میں زور پیدا کرنا چاہتا ہے تو بے اختیار کہتا ہے کہ میں اپنے سگے بیٹے کی بھی فلاں بات نہ مانوں دوسرا کیا ہے – اسی لیے علمائے امت نے اس حدیث کو ہمیشہ سیدہ فاطمہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے طور پر بھی بیان کیا ہے –
دوستو ! اس حدیث کی راوی بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں – محبت کی ابدی اور انصاف کی حتمی دلیل یہ حدیث بیان کرنے والی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل میں اپنی بیٹی بارے کوئی معمولی سے کمزور بات ہوتی ، تو کبھی تو سامنے آتی – سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بارے ہم نے تین احادیث بیان کیں ، کیسی عجیب بات ہے کہ تینوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بیٹی کی عظمت کی گواہ بنی کھڑی ہیں – حتی کہ سیدہ کی جنت کی خواتین کی سرداری کا دربار رسالت سے مل پروانہ بھی امت کو اگر سنایا تو اسی ماں نے سنایا کہ جس کے بارے میں نبی کریم نے اسی بیٹی فاطمہ سے فرمایا تھا : ” اے بیٹی کیا تو پسند نہیں کرتی کہ جو میں پسند کرتا ہوں ؟ بیٹی نے کہا ” کیوں نہیں ” نبی کریم نے اس پر فرمایا کہ : “تم اس (عائشہ) سے محبت کرو ” (٦)
…………….
١،صحیح بخاری ، مسلم ٢٤٥٠
٢،صحیح بخاری ٥٣٦١
٣،ترمذی ٣٨٧٢ ،سنن ابی داوود ٥٢١٧
٤،مسند ابی یعلی ٨٧٠٠
٥،صحیح بخاری ٣٤٧٥ ،مسلم ١٦٨٨
٦،…بخاری ٢٥٨١ -صحیح مسلم ٢٤٤١

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...