ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

پاکستانی گائناکالوجسٹ ڈاکٹرز کے خلاف ایک مقدمہ

پچھلے چند روز کے دوران میں ایک وائرل پوسٹ پر مجھے ٹیگ کیا جاتا رہا، لوگ اسے ان باکس میں بھیجتے رہے، میری وال پر مختلف پوسٹوں کے نیچے کمنٹس میں لگاتے رہے۔ اس پوسٹ میں کہاگیا کہ ’سویڈن میں حمل کے پہلے مہینے سے ہر خاتون کو سپیشل نرس مل جاتی ہے جو اسے ہر مہینے بلاتی ہے اور اس کے سارے ٹیسٹ کرتی جاتی ہے اور کمپیوٹر میں اپ لوڈ کرتی جاتی ہے۔ چار مہینے بعد پہلا الٹراساونڈ ہوتا ہے اور بچے کی جنس بتا دی جاتی ہے۔ چائلڈ ڈیلیوری کے وقت خاوند عورت کے پاس ہوتا ہے اور کمرے میں ایک یا دو نرسیں ہوتی ہیں۔ کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی، عورت درد سے چیختی ہے مگر نرس اسے صبر کرنے کا کہتی ہے اور 99 فیصد ڈیلیوری نارمل کی جاتی ہے۔ نہ ڈیلیوری سے پہلے دوا دی جاتی ہے نہ بعد میں۔ کسی قسم کا ٹیکہ نہیں لگایا جاتا۔ عورت کو حوصلہ ہوتا ہے کہ اس کا خاوند پاس کھڑا اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے‘۔ ’ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے خاوند سے کٹوائی جاتی ہے اور بچے کو عورت کے جسم سے ڈائریکٹ بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کر لے۔ بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو کہا جاتا ہے اور زچہ یا بچہ دونوں کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگتا ہے۔ پہلے دن سے ڈیلیوری تک سب مفت ہوتا ہے اور ڈیلیوری کے فوراً بعد بچے کی پرورش کے پیسے ملنے شروع ہوجاتے ہیں اور سولہ مہینے تنخواہ کے ساتھ ماں باپ دونوں کو چھٹیاں ملتی ہیں تاکہ بچے کی پرورش اچھے طریقے سے کی جاسکے‘۔ اس کے بعد پوسٹ لکھنے والے نے سویڈن اور پاکستان کا تقابل کرنے کی کوشش کی، یہاں کی گائناکالوجسٹ ڈاکٹروں ، ان کی فیسوں کاذکرکیا اور آخر میں الزام عائد کیا کہ پاکستانی ڈاکٹرز محض پیسے کے لالچ میں نارمل آپریشنز کو بھی سیزیرن میں بدل دیتی ہیں۔ یہ ایک ایسی وائرل پوسٹ ہے جس کا مقدمہ ہی غلط بنیاد پر استوار ہے۔ دنیا کی امیر ترین، ترقی یافتہ، ماڈل فلاحی غیر مسلم ریاست کی گورنمنٹ سپانسرڈ میڈیکل پریکٹس کا مقابلہ ایک ترقی پذیر، قرضوں کے بوجھ تلے دبے، روایت پسند، مسلم ملک کی پریکٹس سے کیا جا رہا تھا۔ گورنمنٹ سیٹ اپ کا مقابلہ گورنمنٹ سیٹ اپ سے کیا جاتا تب بھی بات بنتی۔ اس مقدمے میں سویڈش گورنمنٹ کے ہیلتھ سیٹ اپ کا مقابلہ پاکستان کے پرائیویٹ ہیلتھ سیٹ اپ سے کیا گیا۔ آپ پرائیویٹ سیکٹرز کا تقابل کیجیے یا گورنمنٹ کا تب بھی پیمانہ درست اعداد و شمار دکھائے گا لیکن جذباتی ملمع کاری کی دیوانی عوام نے بے دریغ پاکستانی ڈاکٹروں کو جلاد، قصائی اور قاتل کہنا شروع کردیا۔

 

آپ صدق دل سے بتایئے، مسلمان معاشرے میں اگر لیڈی ڈاکٹر اپنی مریضہ کی نارمل ڈلیوری کرواتے ہوئے اس مریضہ کے شوہر کو اندر ساتھ کھڑا کرے تو کیا یہ اسلامی پردے کی موافقت میں ہے یا نہیں؟ کیا ہماری معاشرتی روایت میں میاں بیوی کا باہمی پردہ نہ ہونے کا مطلب لیڈی ڈاکٹر اور مریضہ کے شوہر کا پردہ نہ ہونے کے برابر ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا مرد گائناکالوجسٹ ایک مریضہ کی نارمل ڈلیوری کروائے تو شوہر ساتھ کھڑا ہونا پسند کرے گا یا اسے غیرت کا مسئلہ اور غیراسلامی سمجھے گا؟

اچھا! صرف اتنا بتا دیں کہ گھر میں اپنے ذاتی بیڈروم میں زچگی کے عمل میں آپ میں سے کتنے شوہر اپنی بیوی کا ہاتھ تھام کر کھڑے ہوئے؟ آپ میں سے کتنے شوہروں نے اپنے بچے کی ناف خود کاٹی؟ آپ کیوں اپنے گھر میں، اپنے بیڈ روم میں اپنی راجدھانی میں زچگی کے روز بے دخل کردیے گئے؟ اس پر آپ معترض بھی نہیں،کیوں؟ اعتراض تمام لیڈی ڈاکٹر کے لیے کیوں؟ ذرا گریبان میں جھانکیے کہ درحقیقت آپ چاہتے کیا ہیں؟ بیوی کی زچگی کی دردوں میں اس کا ساتھ دینا یا کچھ اور؟

آپ پرائیویٹ ڈاکٹر کی فیس کا دونوں ممالک (سویڈن اور پاکستان ) میں تقابل کریں اور پھر بتائیں سستاکون ہے؟ چلیں! سویڈن تو غیرمسلم ممالک میں سے ایک ہے، آپ دنیا کے مسلمان ممالک مثلاً دوبئی،سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،کویت، بحرین میں پرائیویٹ ڈلیوری اور سیزیرین کی فیسوں پر تحقیق کریں اور پھر سوچیئے کہ ان ممالک میں بسنے والے پاکستانی زچگی کے لیے اپنی بیگمات کو پاکستان کیوں بھیج دیتے ہیں؟ ایسا وہ وطن یا خاندان کی محبت میں نہیں کرتے بلکہ بہترین سہولیات سے مزین بہترین پرائیویٹ سیٹ اپ میں اعلیٰ ترین سروسز کو عرب ممالک کی نسبت نصف سے بھی کم داموں حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ سویڈن کو چھوڑیں،سعودی عرب میں 8 سے 10ہزار ریال جو پاکستانی اڑھائی سے تین لاکھ بنتے ہیں فیس ایک ڈلیوری کی لی جاتی ہے۔ یہ سرکاری ہسپتال کی فیس ہے پرائیویٹ کی بات ہی کچھ اور ہے۔ ہمارے لوگ کسی بھی معاملے میں نتیجے پر بہت جلد پہنچ جاتی ہے، چاہے وہ حقیقت ہو یا نہ ہو۔

 

آپ نے محسوس کیا یا نہیں سوشل میڈیا پر جو عورت کے حقوق اور شعور کی بات کرتے ہیں، وہ صرف پردہ کرنے اور نہ کرنے پر ہی ہے۔ دوسری طرف مذہبی طبقہ بھی بس اسی کو لے کے بیٹھا ہے، کسی کو وقت کی بنیادی ضرورت یعنی تعلیم و تربیت کی فکر ہی نہیں۔ نیز ڈاکٹر کے متعلق میڈیا صرف منفی رپورٹنگ کرتا ہے۔ ڈاکٹر کی غلطی، ڈاکٹر کا لالچ ،قصائی ڈاکٹر ،جلاد۔ آپ ہی بتائیں کیا معاشرے سے مسیحا ختم ہو گئے ہیں یا اچھائی کو پہچاننا مشکل کردیا گیا ہے۔

ڈاکٹر کو جلاد بنا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن مسئلے کا حل کوئی نہیں بتاتا،صرف شکوک وشبہات پیدا کرکے لوگوں کی کم علمی سے فائدہ اٹھانا اور اسے کیش کروانا میڈیا ہاوءسز کا کام رہ گیا۔ ہم سب بحیثیت مجموعی منفی خبر کے شوقین ہیں۔ نیم مردہ سیریس مریض ڈاکٹر کی بہترین تشخیص اور ٹو دی پوائنٹ علاج سے جان بر ہو جائے،یہ کوئی خبر نہیں بنتی لیکن وہی سیریس نیم مردہ مریض اسپتال میں دم توڑ جائے تو ڈاکٹر کی غلطی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ ذرا سوچیے! وہ مریض ڈاکٹر تک جس حال میں لایا گیا اس حال تک اسے کس کی غلطی اور لاپرواہی نے پہنچایا تھا؟ آپ نے بیماری کا سر آغاز ہی میں کیوں قلم نہیں کروایا، اسے بڑھنے کیوں دیا؟

ڈاکٹر ٹیسٹ کروائے گا تبھی اسے آپ کی بیماری کی نوعیت کا علم ہو گا۔ تشخیص کے رستے پر ٹیسٹوں کی سٹریٹ لائٹس نہ لگائی جائیں تو اندھیرے رستے میں حادثے یقینا منتظر ملا کرتے ہیں۔ جس طرح پولیس کیس میں تفتیش کی گاڑی شک کے پٹرول سے چلتی ہے بعینہ میڈیکل کیس میں تشخیص کا گھوڑا میڈیکل ٹیسٹس کی ایڑ سے دوڑتا ہے۔ آپ سویڈش سسٹم میں ٹیسٹ کروانے پر معترض نہیں کیونکہ گورنمنٹ آپ کے ٹیسٹ مفت کرتی ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ بھی اپنے سرکاری اسپتال میں عوام کے لیے سب سہولیات مفت فراہم کرتی ہے لیکن پرائیویٹ ڈاکٹر اور پرائیویٹ اسپتالوں میں کچھ بھی مفت نہیں کیونکہ انہیں کسی قسم کی گورنمنٹ فنڈنگ میسر نہیں۔ آپ سب کچھ مفت چاہتے ہیں، یہ خواہش کرنا آپ کا حق ہے، اس کے لئے آپ گورنمنٹ اسپتال میں تشریف لے جائیں۔ آپ پرائیویٹ ڈاکٹر سے وی آئی پی سہولیات مفت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ دیوانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ آپ یہ تو سمجھ سکتے ہیں کہ ہوٹل میں کمرے کا کرایہ ادا کر کے جیب سے خرچ کر کے کھانا کھائیں گے لیکن اسپتال میں کمرے کا کرایہ یا علاج کا بل آپ کو سمجھ نہیں آتا۔ کیوں کیا آپ بھولے ہیں یا بھولے بن رہے ہیں؟

ایسے پروگرام جو عوام کی ہیلتھ ایجوکیشن کو فوکس کریں حکومتی سطح پر ٹیلی ویژن اور اب سوشل میڈیا پر ہونا چاہیے۔ہمارے ہاں بیوٹی کے ماہرین تو روزانہ مارننگ شوز میں آتے ہیں لیکن مریضوں بالخصوص خواتین کی عام اور خاص کسی بھی بیماری کی آگاہی کے لیے کوئی پروگرام نہیں کیا جاتا۔اب یہ ٹیلی ویژن چینل کی غلطی ہے یا شعور کی کمی ہے، جتنے پروگرام ہوتے ہیں وہ بھی لوگوں کی عدم دلچسپی کے باعث زیادہ ریٹنگ نہیں لیتے، نتیجتاًجلد بند ہو جاتے ہیں۔

 

تحریر: ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...