ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

پاکستان کو کنگال کرنے والے

سول سروسز اکیڈمی کے بڑے بڑے مہیب پھاٹکوں‌کے پیچھے ایک اور ہی دنیا آباد ہوتی ہے. ایک ایسی دنیا جس کا کوئی تعلق اپنے اردگرد بسنے والے کروڑوں انسانوں سے نہیں ہوتا. ایسٹ انڈیا کمپنی ایکٹ 1793ء کے تحت بننے والی Corpts d’elite جس کا صحیح‌ ترجمہ “اشرافیہ” بنتا ہے، ایک ایسا گروہ تھا جسے ہندوستان کے “کالے اور گندمی” عوام پرحکومت کرنے کے لئے تخلیق کیا گیا تھا. اس قانون کو تاریخ میں کارنیویلس کوڈ (Cornwallis) کوڈ‌ بھی کہا جاتا ہے. ایک بے ترتیب اور مالی طور پر بدعنوان انتظامیہ کی درستگی کے لیے یہ قانون لایا گیا تھا جس کی کوکھ سے ایک سول سروسز اکیڈمی نے جنم لیا تھا۔

بنگال کو 1757ء میں فتح کرنے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسران میں اس قدر کرپشن اور بددیانتی ہو گئی تھی کہ لارڈ کورنیویلس کو یہ مشن سونپا گیا تھا کہ ہندوستان سے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کر کے واپس آنا ہے کیونکہ اس کے افسران کی کرپشن کی وجہ سے کمپنی مسلسل نقصان اٹھا رہی ہے. لیکن کارنیویلس کی رفارمز نے اس خطے کوایک ایماندار لیکن گورے آقاؤں کی وفادار سول سروس عطا کر دی. اس سروس کے تحت جن لوگوں کو برطانیہ سے ہندوستان بھیجا جاتا انہیں مشہور ہیلے کالج (Hailey bury college) میں ایک طویل ٹریننگ کے ذریعے حکمرانی کے گر سکھائے جاتے۔

1857ء میں جنگ آزادی کے بعد جب مغلیہ سلطنت کا نام نہاد بادشاہ بہادر شاہ ظفر بھی معزول ہو گیا تو ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کے ماتحت آ گیا اورایسٹ انڈیا کمپنی ختم کر دی گئی. لیکن 1857ء کی جنگ آزادی کے آغاز میں‌ ہونے والی فوج میں‌ بغاوت نے گورے کو یہ سبق سکھایا کہ عام ہندوستانی پر براہراست گورے کی حکومت بہت خطرناک ہے، اس کے بیچ میں کوئی واسطہ ہونا چاہیئے ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو پیدائشی طور پر رنگ نسل اور زبان کے اعتبار سے “کالے اور گندمی” ہوں لیکن ایک شاندار ٹریننگ اور حاکمانہ ماحول سے وہ اندر سے مکمل طور پر انگریز بنا دیئے جائیں.

 

یوں 1861ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے سول سروسز ایکٹ civil services act منظور کیا جس کےتحت ایک نہایت سخت اور کڑے امتحان کے بعد ہندوستان کے پیدائشی افراد کو تاج برطانیہ کی وفاداری میں شریک کرتے ہوئے سول سروس میں شامل کیا گیا. لیکن ان “وفاداروں” کی تعداد بہت تھوڑی رکھی گئی. 1947ء میں جب انگریز ہندوستان چھوڑ کر گیا تو اس “اعلیٰ” سروس میں 1010 افراد تھے جن میں 688 گورے اور 322 انڈین تھے۔

ہرسال اگست کے مہینے میں لندن میں سول سروس کے امتحان ہوے، اکیس سے چوبیس سال تک کے نوجوان اس میں شرکت کرسکتے تھے اورکامیاب ہونے والوں کو دوسال کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی کے انڈین انسٹیٹیوٹ، کیمبرج یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لندن، سکول آف اورینٹل سٹڈیز اورٹرنٹی کالج ڈبلن میں حکمرانی کے “گر” قانون اورہندوستانی رسم ورواج کی تعلیم دی جاتی. اس کے بعد ڈیرہدون کے پرفضا مقام پرسول سروسز اکیڈمی بنائی گئی، جہاں 1944ء تک سول سروسز امتحان کے کامیاب افسران تربیت پاتے رہے. اس کے آخری گروپ کے دونام، جی این قاضی اورمیاں ریاض الدین تھے.

ان افسران کو بے پناہ مراعات دی جاتیں اور انکی شاندار تنخواہیں جو ان کا معیار زندگی اس قدر بلند کر دیتیں کہ عام آدمی انہیں‌ ایک بادشاہ تصور کرتا. ڈپٹی کمشنرکا دفتر اپنے اختیارات کے حساب سے ضلع میں ایک منی واسرائے کی حیثیت رکھتا تھا. ایکڑوں پر محیط گھر اور بے پناہ اختیارات کے ساتھ تاج برطانیہ کے اداروں کی وہ ٹریننگ جو انہیں بادشاہ کا وفادار بناتی تھی، یہ سب مل کر انہیں ایک ایسے احساس برتری میں مبتلا کرتا تھا کہ وہ خود کو زمین پر حاکم مطلق اور عقل کل سمجھنے لگتے۔

مراعات اور تنخواہوں نے انہیں بددیانتی کی لعنت سے دور رکھا، ان کی محنت لگن اور گورے سے وفاداری نے ہندوستان کی سول سروس کومثالی بنا دیا. پاکستان بننے کے بعد 1948ء میں لاہور کی مال روڈ پرایچی سن کالج سے تھوڑے فاصلے پر سول سروسز اکیڈمی بنی تو اس میں بھی ویسے ہی لوگ ویسی ہی ٹریننگ حاصل کرتے اور اسی طرح‌ لوگوں پرحکمرانی کرتے. لیکن وقت، حالات اور قیادت نے ان سے “ایمانداری” کی صفت چھین لی۔

 

1959ء میں جسٹس کارنیلس کو سول سروس کی درستگی (Reforms) کرنے کے لیے سفارشات مرتب کرنے کے لیے کہا گیا. 478 صفحات پرمشتمل اس رپورٹ کا تکلیف دہ فقرہ یہ تھا: “A major problem, arising out of present conditions, is that of corruption”. “ایک بڑا مسئلہ جو موجودہ حالات سے پیدا ہوا ہے وہ کرپشن ہے”. یہ ناسور جسکی جسٹس کارنیلس رپورٹ نے پچاس سال قبل نشاندہی کی تھی، آج وہ اس سول سروس کی رگوں میں پھیل چکا ہے اور اس نے اپنے اردگرد سیاسی اشرافیہ اور فوجی جنتا کوبھی اسی زہرناک بیماری کا شکار کر دیا ہے. یہ ناسور پچاس سال پہلے ہی دم توڑ جاتا اگر اس سول سروس کو فتح کرنے، اسے اپنے زیرِ نگین مطیع و فرمانبردار کرنے اور اسے اپنی مالی و سیاسی ہوس کے لیے آلہ کار بنانے کا کام نہ لیا جاتا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی 1973ء کی ریفارمزنے اس گروہ کے کس بل نکال کر اسے اپنا مطیع بنا لیا. بھٹو کی سیاست مالی کرپشن سے پاک تھی لیکن اقتدارکی ہوس نے بھٹو کو سول سروس کے گھوڑوں‌ کو استعمال کرنے پرمائل کیا. پسند و ناپسند کے معیارات سے سول سروس تقسیم کر دی گئی. جوچودہ سو (1400) افسران بھٹو یا پیپلزپارٹی کو ناپسند تھے یا پھر اصولوں پر مزاحمت کرتے تھے، کان سے پکڑ‌ کر نکال دیے گئے. اب سول سروس شاندار قتالہ کے روپ میں سامنے آ گئی جسے سیاسی و فوجی حکمرانوں کی نظروں میں بسے رہنے کے لیے اور ان کے دل میں گھر بنانے کے لیے سو طرح کے ہنر آزمانے پڑے.

ان میں سب سے اہم اور تیر بہدف نسخہ “کرپشن” تھا. اور ہر آفیسر کے پاس طرح طرح کے نسخے تھے جو وہ لے کر سیاسی اور فوجی آقاؤں کے سامنے جاتا اور پیا من بھاتا. نون لیگ کے اپنے سول سروس فنکار بن گئے اور پیپلزپارٹی کے اپنے. آج اس سول سروس اکیڈمی میں ہرسال ایسے سو سے ڈیڑھ سو افسران تیار ہوتے ہیں جوعوام پر حکمرانی ویسی ہی کرنے کا گر سیکھتے ہیں جیسی انگریزی کے زمانے میں کرتے تھے لیکن سیاسی آقاؤں کے سامنے عزت، جان، مال اور آبرو نیلام کر کے نوکری کی معراج حاصل کرنے کے ہنر اپنے سینئرز سے سیکھتے ہیں.  یہ وہ لوگ ہیں، وہ ہنرمند فنکارہیں جنہوں نے اس ملک کی سیاسی اور فوجی اشرافیہ کو بددیانتی، کرپشن، سیاسی بالادستی، قومی خزانے کی بندربانٹ جیسے تمام گر سکھا دیے ہیں.

لیکن گزشتہ یس سالوں سے انہوں نےایک گر انتہائی مہارت کے ساتھ اپنے آقاؤں کو سکھایا ہے کہ ملکی دولت کو لوٹ کر بیرون ملک “محفوظ جنت” میں کیسے لے کر جاتے ہیں. آپ کو اس ملک کے سیاستدانوں کے فلیٹ، گھر، مکان، محل، اکاؤنٹ اور کاروبار بیرون ملک 1988ء کے بعد ہی سے نظر آئیں گے. وہ دور جب پاکستان کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں “جمہوریت کے تسلسل” کے تحفظ میں برسر اقتدار آئیں اور انہوں نے اپنے اپنے سول سرونٹ کے گروہ بنائے. لیکن یہ لوگ کمال کے لوگ ہیں۔

پوری دنیا میں اگر بیرون ملک اثاثوں اور جائیدادوں کا ذکر ہوا تو سیاستدانوں کا، یا پھرکسی حد تک ان جرنیلوں کا جو کچھ عرصہ برسرِ اقتدار رہے، ان کا ہوا. یہ سول سروس کے “عظیم ” سپوت سرجھکائے، آداب بجا لاتے ہوئے کام کرتے رہے. اگر کرپشن کے مقدمات چلے بھی تو اگلی دفعہ برسرِ اقتدار آنے والی ان کی محبوب پارٹی نے انہیں بچا لیا. لیکن کیا کسی کو اس خبر نے ابھی تک نہیں چونکایا کہ ایک لاکھ ستر ہزار سرکاری ملازمین میں سے 32 ہزار دہری شہریت رکھتے ہیں. یہ نہ شہریت انہیں ورثے میں ملی ہے اورنہ ہی یہ وہاں کسی نوکری یا کاروبار کے سلسلے میں سرکاری نوکری میں آنے سے پہلے موجود تھے. ان میں اکثرممالک کی شہریت اس ملک میں‌ سرمایہ لگانے، جائیداد خریدنے اور بینکوں میں کثیر رقم منتقل کرنے سے آتی ہے.  صرف ایک محکمہ کسٹمز ہر سال شراب منشیات اور دیگر سمگلنگ میں اپنا حصہ وصول کرتا ہے جو سالانہ 4 ارب ڈالر بنتا ہے جن میں سے آدھا بیرون ملک کاروباروں میں لگا دیا جاتا ہے۔

اس کسٹم سروس کے 57 افراد کے بیرون ملک 17 ارب ڈالر ہیں. نیب کے چیئرمین کو کسٹم انٹیلی جنس کے ایک آفیسر عامر شبیر نے درخواست جمع کروائی ہے جس کے مطابق شوکت علی ڈائریکٹر جنرل کسٹم انٹیلی جنس ایک سابقہ کسٹم آفیسر مشتاق سرگانہ کے ساتھ مل کر اپنے پرائیویٹ پاسپورٹ DE 1791854 پر بار بار لاکھوں ڈالر باہر منتقل کر رہا ہے. یہ صرف ایک معمولی سی خبر ہے. یہ سب کے سب کیا کرتے ہیں کیسے قانون بنا کر پارلیمنٹ سے پاس کرواتے ہیں اور کس طرح ان تقریباً ایک ہزار سول سرونٹ، سیاستدانوں اور دیگر نے ملک کو کنگال کر دیا ہے.

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...