ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

ماضی کے دارالحکومت ڈپلومیٹک انکلیو ” نارتھ ناظم آباد ” کا نوحہ

کچھ دن قبل دو صاحبان علم کی تحریر وہاٹس ایپ کے زریعہ پڑھی موضوع تھا ” کراچی کا نوحہ” مگراس میں زیادہ تر زکر ” نارتھ ناظم آباد” کا تھا ..کچھ تشنگی سی محسوس ہوئ..سوچا کچھ طبع آزمائ ہم بھی کر لیں اور نارتھ ناظم آباد کے بارے میں جتنی یادیں زہن میں تازہ ہیں ان کو ضبط تحریر میں لایااور آپ لوگوں کو بھی اس میں شریک کیا جائے.. …..تو پھر پڑھئے زرا غور اور اطمینان سے…
1973 کی بات ہے جب ہم عوام ایکسپریس کے زریعہ ملتان سے کراچی پہنچے…. ہم سب بہن بھائ امی ابا اور ہمارے چھوٹے ماموں اور سارا سامان ٹھونس ٹھسا کر ایک کالی پیلی ڈاٹسن 1200ٹیکسی کے مالک ڈرائیور سے بحث مباحثہ کے بعد مول تول کر کے پتا نہیں کیسے ایک ہی گاڑی میں لد لدا کر نارتھ ناظم آباد پہنچے ….گو کہ اس سے پہلے بھی کئ مرتبہ کراچی آنا ہوا اور کبھی بڑے تایا صاحب کے گھر یا پھر ہوٹل میں رہے..مگر اس دفعہ ہم آئے نارتھ ناظم آباد جہاں ہمارے ایک انکل کا مکان تھا اور وہ ابھی بھی موجود ہے اپنی اسی حالت میں ..خیر یہ قصہ تو الگ ہے کہ ہماری اماں جان تو اس مرتبہ کچھ اور ہی سوچ کے آئی تھیں کہ اب واپس نہیں جانا ہے کہ ہمارے تقریباً سارے رشتہ دار کراچی میں تھے اور یہی ہوا کہ ابا کو کہ دیا گیا کہ اب آپ بھی کراچی کی پوسٹنگ کروا لیں ..تو خیر ہم نارتھ ناظم آباد کے پہاڑی والے بلاک کیو Q..جو آج کٹی پہاڑی کے نام سے مشہور ہے..میں رہ گئے ..پھر وہیں ایک کرایہ کا چھوٹا سا مکان لیا .پھر وہاں سے بلاک این N ..پھر پاپوش نگر 5C..اور پھر وہاں سے دوبارہ نارتھ ناظم آباد بلاک Q..کہ ہمارے وہ انکل نے اس مکان پر دوسری منزل بنوا لی تھی اور ہمیں زبردستی وہاں لے گِئے کہ کسی اور کو کرایہ پر نہیں دینا ہے 250 روپے ماہانہ کا وہ 200 گز کا گھر … .اور ….1975…. میں ہم نے سامنے والا مکان خرید لیا..گو کہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر ہم وہاں سے بلاک L اور پھر بلاک S کچھ عرصہ …اور پھر دوبارہ بلاک Q ..اور بلآخر 1987 میں نارتھ ناظم آباد میں رہائیش چھوڑ دی.. ….مگر اس تمام عرصہ میں نارتھ ناظم آباد کو نہیں چھوڑا..روزآنہ وہاں جانا..ایک طرح کا رومانس تھا نارتھ سے…کراچی جب پاکستان کا دارالحکومت تھا تو نارتھ ناظم آباد کو کیپیٹل ریزیڈینس کے طور پر تیار کیا گیا تھا اس کی پوری منصوبی بندی اسی کو پیش نظر رکھ کر کی گئ تھی..بلاک B اور F کو ڈپلومیٹک انکلیو ..اور اسی طرح باقی بلاکس کو دیگر حکومتی عہدیداروں ..وزرا ء اور افسران کی رہائیش کے لئے..اور نیچے کے حکومتی افسران کے لئے بفر زون اور نارتھ کراچی کو پلان کیا گیا تھا.جب دارلحکومت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا گیا تو 1960 میں نارتھ ناظم آباد کو KDA اسکیم 2 قرار دے دیا گیا اور عام شہریوں کو اس کی فروخت شروع کر دی گئ.. .نارتھ ناظم آباد جس کی پہچان یا اس کا آئ کون icon ہے اس کی پتھریلی یا مٹیالی پہاڑی ..(یہ سلسلہ بنارس کالونی سے شروع ہوتا ہے اور قصبہ کالونی اور بلاک P جس کو حسین ڈی سلوا ٹاوُن بھی کہا جاتا ہے اور پھر موجودہ مصطفیٰ آباد اور ماضی کے نصرت بھٹو کالونی سے ہوتا ہوا کیرتھر اور تھانہ بولا خان تک چلا جاتا ہے) …کتنا صاف ستھرا علاقہ..دو رویہ درمیان میں برساتی نالے والی چوڑی سڑکیں ..نالے کے کنارے پر سفیدے کے درخت….چوڑی چوڑی گلیاں …200..400..600..800..1000..1200..1500..2000 گز کے مکانات..اور یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ پورے پاکستان میں نارتھ ناظم آباد سے زیادہ بڑی پلا ٹوں کی کٹنگ ( چائینا کٹنگ نہیں ) نہیں ہے ..یعنی 2000 گز سے لیکر 10 ہزار گز تک کی کٹنگ ہے..بلاک B میں …اور بلاک B اور F میں زیادہ تر بڑے کاروباری لوگ رہائیش پزیر تھے..تمیز سے رہتے تھے اور ترتیب سے بھی.. ..کسی کو کبھی بھی حد سے تجاوز کرنے کا کا خیال نہیں آیا.. مکانوں کے باہر یا تو فٹ پاتھ یا پھول پھلیاری.. بڑے مکانوں کے باہر تو لان لازمی ..جہاں شام میں محلہ کی بیٹھک لگتی تھی …ہر بلاک کا اپنا کمرشل ایریا. اپنا کھیل کا میدان ہر بلاک میں ایک یا ایک سے زائد مسجد..کیا علاقہ تھا …تین مین سڑکیں ہیں ایک جس کا آج کا نام شاہراہ نور جہاں ہے جو پاپوش نگر قبرستان کے بعد عبداللہ کالج سے شروع ہوتی ہے .اور پہاڑ گنج چورنگی اور شپ اونرز چورنگی سے ہوتی ہوئ اور آج کے قلندریہ چوک پر ختم ہوتی ہے اس پر بائیں ہاتھ پر بلاک P.Q.R.S.& T واقع ہیں اور ان بلاکس کے پیچھے کچھ کچی آبادیاں..جوکہ کراچی کی ہر کالونی کے ساتھ ایک کچی آبادی کی پلاننگ کے طور پر تھی تاکہ لیبر بھی مل سکے بعد میں تو پورے کراچی میں یہ آبادیاں ریگولرائیز ہو گئیں تو اب بلاکس کے پیچھے پیر آباد . دیر کالونی.عمر فاروق کالونی.پہاڑ گنج.عثمان غنی کالونی.اور آخر میں نصرت بھٹو کالونی یا مصطفیٰ آباد..یہ پہاڑی پٹی پر واقع کچی آبادیاں ظاہر ہے کہ شروع سے نہیں تھیں بلکہ دارلحکومت اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد لوگوں کو بسایا گیا تھا اور یہ علاقہ ہمارے پختون برادری سے آباد ہو گیا کیونکہ کچا پکا پہاڑی علاقہ جہاں شہری بلدیاتی سہولتیں ناپید ..بجلی پانی کی کمیابی.. اس سختی میں ہمارےبپختون بھائیوں کے خاندان ہی وہاں پر ٹک سکے کیونکہ شائید وہ اس کے عادی تھے ..مگر بعد میں یہی علاقے حکومت کی رٹ قائم نا ہونے کی وجہ سے جرائم کی آماجگاہ بن گئے اور علاقہ میں امن و امان کی صورت حال بگڑنے کی وجہ بم گئے ..اور سیدھے ہاتھ پر بلاک A.C.D.I.& J واقع ہیں اس سڑک پر عبداللہ کالج..نیو میتھڈ اسکول.نشتر گرلز کالج .Q بلاک میں عیسائ مشنری ہاسٹل کے دو کیمپیس.انٹر میڈیٹ بورڈ آفس.بختیاری یوتھ سینٹر جہاں کرکٹ اور ہاکی ( بجری گراوُنڈ) کا ایک ایک گراوُنڈ اور فٹبال کا ایک جس میں ایک کرکٹ کی پچ بھی تھی ..ایک ٹینس کورٹ ایک باسکٹ بال کورٹ اور دونوں طرف پویلین بنی ہوئ…دائیں ہاتھ اسٹیٹ بینک کا بہت بڑا پلاٹ جس پر کرکٹ کے دو اور ہاکی کا ایک گراوُنڈ بعد میں اسٹیٹ بینک بن گیا ..

بڑی جامعہ مسجد بلاک A .پاک وانڈرز کا کرکٹ گراوُنڈ جو اب اصغر علی شاہ کرکٹ اسٹیڈیم ہے جو کہ ڈاکٹر محمد علی شاہ کے والد کے نام پر ہے …..اسماعیلی یا آغا خانیوں کا ایک بڑا جماعت خانہ …آگے جاکر دائیں ہاتھ پر بلاک C اور D .کے درمیان اشرف مسجد کا بڑا گراوُنڈ جس میں بیک وقت ہاکی ..فٹ بال اور کرکٹ ہوتی تھی.آگے الٹے ہاتھ شپ اونرز کالج ( یہ پاکستان کے کئ بڑے جہاز راں کمپنیوں کے مالکان کے فنڈز سے بنایا گیا تھا ) سیدھے ہاتھ پر پارک اور شافعی یا کوکن مسجد ..جامعہ مسجد صدیق اکبر .جامعہ مسجد عثمان غنی.اس کے سامنے ایک بہت اچھا پارک اور پھر بلاک J میں ایک بڑا پارک اور جامعہ مسجد..دو بلاک بڑے عجیب اور ان کے محل وقوع کچھ مختلف سے ہیں ایک U بلاک جو کہ عبداللہ کالج اور KDA فلیٹ ( یہ KFA کی افسران اور ملازمین کی رہائشگاہ تھی) کے پیچھے قصبہ کالونی کی طرف جاتے ہوئے ہے سیدھے ہاتھ پر ہے …اور دوسرا W بلاک یہ پاپوش نگر پانچ نمبر لال مسجد کے بعد ..جناح ویمن یونیورسٹی کے بائیں ہاتھ اور تیسری طرف قبرستان کے سامنے پڑتا ہے. خوبصورت چھوٹی دیواروں کے مکانات ..مشہور شخصیت ابن انشاء کا گھر چاند نگر …اس وقت تو پورا بلاک W ..جس کا نام علامہ اقبال ٹاوُن بھی ہے..انشاء جی کے نام سے ہی پہچانا جاتا تھا..دوسری بڑی سڑک علامہ رشید ترابی روڈ ہے یہ ڈاکٹر ضیاءالدین اسپتال اور کھنڈو گوٹھ ( یہ بھی کچی آبادی تھی) اور بلاک B سے شروع ہوتی ہے اور امام بارگاہ حسینیہ سجادیہ.. لنڈی کوتل چورنگی سے ہوتی ہوئ پیپلز چورنگی تک جاتی ہے اس پر بائیں ہاتھ بلاک F.G.H.L.M.& N اور دائیں ہاتھ بھی انہیں بلاک کا حصہ ہے ( ان بلاکس میں صرف سامنے والی قطار یعنی مین روڈ کے علاوہ کچی آبادی تھی جس کو بھی بعد میں ریگولرائیز کیا گیا اس میں اسلامیہ ٹاوُن.کوثر نیازی کالونی.عرفات ٹاوُن.اوربطحٰہ ٹاوُن شامل ہیں .. ..اس سڑک پر بائیں ہاتھ پر گلاب محل پارک..سیفی کالج.NNG اور جیفکو کے کرکٹ گراوُنڈز..کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج.اور نارتھ ناظم آباد کرکٹ اکیڈمی کا گراوُنڈ واقع ہیں ..

تیسری بڑی سڑک ..5000 Road یا شیر شاہ سوری ہے..جو کہ دراصل ایم اے جناح روڈ کا تسلسل ہے.اور 7 نمبر کے پل سے شروع ہوتی ہے یہاں سے ہوتی ہوئ ناگن چورنگی .نارتھ کراچی سے ہوتی ہوئ سرجانی ٹاوُن اور پھر ناردرن بائ پاس تک جاتی ہے..اس سڑک پر بھی وہی بلاک A.B.C.F.E.G.D.H.I.L.K.M.J.N….پڑتے ہیں..چار بلاک E.K.G.M..یہ مکمل کمرشل ہیں جہاں مارکیٹس اور فلیٹس ہیں ..شروع میں سیدھے ہاتھ پر T& T ..پھر ایک باسکٹ بال کورٹ ..حنیف اسپتال ..شاہ فیصل پلازہ.اس کے پیچھے ایک پرانہ اور مشہور اصغر اسپتال..بائیں ہاتھ پر پرانا مشہور گولڈن گیٹ ریسٹورینٹ. ملا نہاری. آگے جا کر بہت بڑی مسجد جامعہ فاروق اعظم اور امام بارگاہ باب العلم . امام کلینک.حلیم اسپتال.ممتاز اسپتال.نارتھ سٹی اسپتال.سیفی اسپتال.فلورینس اسپتال.Remedial اسپتال..تیموریہ مسجد.تیموریہ لائیبریری.مشہور زمانہ اور خواتین میں مقبول حیدری مارکیٹ .سخی حسن شاہ کا مزار اور شادی ہالز کی ایک پوری مارکیٹ بھی اسی سڑک پر ہے.بوہری برادری کی ایک بڑی مسجد گو کہ وہ اس مین روڈ کے پیچھے والی گلی میں بلاک C میں ہے مگر بہر حال پڑتی اسی سڑک پر ہے …

کئ بڑے اور مشہور تعلیمی ادارے بھی نارتھ ناظم آباد کی پہچان رہے ..عبداللہ گرلز کالج..شپ اونرز بوائیز کالج..سینٹ جوڈز اسکول..علیمیہ اسکول.تیموریہ اسکول.کمپری ہینسو گرلز اسکول.پروگریسو اسکول .لٹل فوکس .حیدری اسکول..TTC..ٹیکنکل ٹریننگ اسکول .ان تینوں بڑی سڑکوں کو آپس میں تین یا ساڑھے تین لنک روڈ ملاتی ہیں ایک کیفے پیالہ یا پیپلز چورنگی سے شروع ہو کر سخی حسن چورنگی سے ہوتی ہوئ قلندریہ چوک تک جاتی ہے اور اس سے آگے مصطفیٰ آباد میں جا گھستی ہے اور اس سے آگے میانوالی کالونی اور نیا ناظم آباد اور منگھو پیر تک جاتی ہے اس سڑک کے دائیں بائیں بلاک N .J پڑتے ہیں.اور بلاک J کے دائیں ہاتھ والی پٹی کے پیچھے سخی حسن قبرستان ہے….دوسری لنک روڈ شپ اونرز کالج سے لنڈی کوتل چورنگی تک جاتی ہے اور اس کے بعد طاہر ولا ایف بی ایریا میں داخل ہو جاتی ہے اس درمیان دائیں اور بائیں بلاک L.H.D اور i .پڑتے ہیں …تیسری لنک روڈ پہاڑ گنج سے شروع ہوتی ہے اور KDA چورنگی سے ہوتی ہوئ ڈاکٹر ضیاءالدین اسپتال تک جاتی ہے اور اس سے آگے کریم آباد چلی جاتی ہے اس درمیان بلاک A.C.F.B پڑتے ہیں چوتھی لنک روڈ ادھوری ہے یہ U بلاک اور عبداللہ کالج سے شروع ہو کر میٹرک بورڈ آفس پر ختم ہوجاتی ہے دائیں جانب سات نمبر کا پل ہے اور سامنے بلاک B ہے اس سڑک پر بلاک A اور W ہے. نارتھ ناظم آباد کے بلاکس میں پوری ایلفا بیڈز نہیں ہے اس میں O.X.Y.Z غائب ہیں .

 

..ٹرانسپورٹ کا سلسلہ.کچھ ایسا تھا کہ دو بس روٹ 3 نمبر لال رنگ کی بڑی بس یہ نصرت بھٹو کالونی سے چلتی تھی اور پاپوش نگر کے راستہ ایم اے جناح روڈ سے کیماڑی جاتی تھی..دوسری پرائویٹ بس تھی مشہور زمانہ کامیاب روٹ 2K …یہ سخی حسن بلاک N سے شروع ہو کر بزریعہ پاپوش نگر ..صدر جاتی تھی..اس کے علاوہ ایک FORD ویگن B3 تھی اس کا روٹ بھی کم و بیش 3 نمبر بس والا تھا. ایک اور ٹرانسپورٹ سروس تھی 6 سیٹر رکشا جو کہ اس کے علاوہ اس وقت ملیر..شاہ فیصل.ماڈل.کالونی وغیرہ میں چلتا تھا ..یہ نصرت بھٹو کالونی سے لیکر پاپوش نگر تک جاتا تھا .. مگر یہ نا کافی ٹرانسپورٹ تھی اور مین حیدری والی بڑی روڈ پر جو گاڑیاں نیو کراچی کی جانب سے آتی تھیں ان کے لئے حیدری یا KDA چورنگی تک آنا پڑتا تھا.. ..

.یہ تو ہو گیا نارتھ ناظم آباد کا جغرافیہ اب آتے ہیں اس کے اصل حسن کی طرف  .کئ مشہور و معروف اور نامور شخصیات کا یہ علاقہ .جہاں بلاک P میں جنگ اخبار کے معروف کالم نگار رہتے تھے کیا بات تھی ان کی بڑے ہی وضع دار آدمی.اور ملکی حالات حاضرہ پر بے لاگ تبصرہ کرنے والے "انعام درانی” اور پاکستان کے ٹاپ لیویل کے ریڈیو لاجسٹ "ڈاکٹر شبیر نعیم” اور ان کی بیگم محترمہ "صفورہ نعیم” جو کہ کراچی کے ایک اچھے اور بڑے چین اسکول کی روح رواں رہیں ..اور "کنور خالد یونس” جو دو مرتبہ ممبر قومی اسمبلی رہے اور جن کے ساتھ میں جب 1986 میں کراچی کے حالات خراب ہونا شروع ہوئے تھے تو میں اور یہ پہاڑی پٹی پر امن کمیٹیاں بناتے پھرتے تھے پھر بلاک A میں 1979 اور 1983 کی کراچی کی بلدیہ کے ڈپٹی مئیر اور دو مرتبہ کے ممبر قومی اسمبلی "مظفر احمد ہاشمی” انتہائ قابل و شاندار وضح دار ..صاحب علم و ادب اور یار باش شخصیت ..صبح صبح جب ہم بختیاری یوتھ سینٹر میں فٹبال کھیلنے جاتے تو وہ وہاں اپنے چار پانچ احباب کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے ملتے.. پھر "انصار برنی” جن کو اس وقت الیکشن لڑنے کا بہت شوق تھا گو کہ اب وہ بالکل مختلف کام کر رہے ہیں اور اچھا کر رہے ہیں.جماعت اسلامی کراچی کے موجودہ امیر انجینِیر حافظ نعیم الرحمان .اور ” عابد اسلام ” اس زمانہ کے کراٹے کے بلیک بیلٹ اور سیاسی سماجی کام میں بھی سرگرم اور بہت فعال وہ بھی ہر وقت اپنے ساتھ کئ لوگوں کا جمگھٹا لگائے ان کو ورزش کروانے کے ساتھ طرح طرح کے کھانے بھی کھلانے پر مصر…اور ان ہی کے زریعہ اور ان کے گھر پر ہی ان کے پڑوسی جناب "سلیم صادق” ریسلنگ کے پروموٹر سے بھی ملاقات ہوئ سرخ و سفید بھاری تن و توش کے مالک ماضی میں خود بھی پہلوان رہے…ان کے کئ لطیفے ہیں وہ کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں ..اسی A بلاک میں مشہور ” ملا احمد” کی راج دھانی تھی اور اب بھی موجود ہے.مٹھائ .نہاری.اور نا جانے کیا کیا کاروبار ..ان کے کئ اور سماجی اور رفاحی کارنامے بھی ہیں ..پھر ٹی وی کے چند لوگ جیسے کہ مشہور اداکار” شہزاد رضا” اب تو ان کے نام کی گلی بھی بن گئ ہے. ٹی وی پر بدمعاشوں کا رول کرنے والے ” ایم وارثی ” اداکاری کے ساتھ وہ اپنی موٹر سائکل مرمت کی دکان بھی چلاتے اور خود اپنے ہاتھ سے کام کرتے ..دوسرے "بدمعاش” اداکار ",اسلم لاٹر ” یہ رہتے کہاں تھے یہ نہیں پتا مگر پائے جاتے تھے ایم وارثی کے پاس…..پھر ڈراموں میں المیہ اداکاری کی ماہر خاتون اداکارہ ” زہین طاہرہ” اور بڑے ہی قابل پروڈیوسر ” قاسم جلالی” جن کا ڈرامہ "با ادب با ملاحظہ” بڑا ہی مقبول ہوا. اداکار مظہر علی جن کو NED کے زمانہ سے اداکاری کا شوق ہوا اور آہستہ آہستہ ایک منجھے ہوئے فنکار کے طور پر روشناس ہوئے. مشہور پی ٹی وی نیوز کاسٹر معراج الدین ..اور مشہور اداکار ساجد حسن وہ اس وقت یوتھ سینٹر میں ٹینس کھیلتے تھے اور ہم ان کو دیکھتے تھے بعد میں تو ساجد حسن بہت مقبول ہوئے اور ابھی حال ہی میں انور مقصود کے ایک اسٹیج ڈرامہ ” کیوں نکالا ” کامرکزی کردار ادا کر رہے ہیں ….اسٹیل ملز کے مزدور رہنما ” پاشا احمد گل( شہید) جو ایک زبردست مقرر اور سماجی و ادبی شخصیت بھی تھے.. اور ” جنگ لندن کے "ہمایوں عزیز صاحب ” بھی ..اب بھی بلاک C میں رہتے ہیں…نارتھ ناظم آباد نے کرکٹ کو بھی کئ نامور سپوت دئے . سکندر بخت ( سیکو بھائ ) معین خان .ندیم خان اور رضا تو ٹیسٹ کرکٹ کھیل گئے مگر کئ ایسے اچھے کھلاڑی بھی تھے جو کسی وجہ سے ٹیسٹ میں تو نا آسکے مگر وہ کھلاڑی بہت اچھے تھے…تحسین احمد اور ان کے دو بڑے بھائ مقیم احمد اور جلیل احمد..ریحان .امجد علی بلاک C ..عبداللہ خان .میرے ہم جماعت زینون اور غیاث بلاک A سے..نعیم احمد بلاک D ..ریحان بلاک ,آئ اور انیس اور نفیس بلاک J ..اور نارتھ کی کرکٹ کا زکر خلیق اللہ کے بغیر تو ہو ہی نہیں سکتا.کیا کردار تھا کھیل میں تفریح و سنجیدگی کا امتزاج آج کے کئ اچھے کرکٹرز کے استاد ..پھر عتیق اللہ .عرفان اللہ.خالد احمد.. پرویز.معین ..اور میرے بڑے بھائ کے دوست شاہد علی اور عقیل عباسی ..یہ سب بہت اچھی کرکٹ کھیلتے تھے..یوتھ سینٹر میں بجری گراوُنڈ پر ” جہانگیر خان "” کا ہاکی کلب تھا جہاں کئ ملکی سطح کے نامور کھلاڑی صفدر عباس .حنیف خان.افتخار سید وغیرہ آتے تھے اور وہاں ملکی سطح کے کئ ایک بڑے ٹورنامنٹ بھی ہوئے اس زمانہ میں ہاکی کھیلنے کا رواج زیادہ تھا اور کئ اچھے کھلاڑی بھی گزرے زبیر ..تنویر بھائ. سہیل مسٹر T کے نام سے مشہور.ہمارے کلب نارتھ سٹار کے عبید اللہ ..ظہیر.عثمان.انتصار خان.مستفیظ وغیرہ. ..یوتھ سینٹر کے فٹبال گراوُنڈ میں صبح کے وقت بہت اچھا کھیل ہوتا تھا کئ بڑے کلب کے کھلاڑی پریکٹس کے لئے آتے تھے
مثلاً پاک مجاہد کلب کے کپتان .پاکستان یونیورسٹیز کے کپتان فرید بھائ .پاک مغل کے کھلاڑی.نیشنل بینک کی باسکٹ بال کے دو کھلاڑی رئیس اور حفیظ ..شکیل بھائ.محمود خان.مجاہد.لال.ارشد.سرفراز احمد ( یہ سرفراز بہاری ہیں جو جماعت اسلامی کراچی کے میڈیا کے شعبہ میں ہیں) ..ان دنوں صبح کے وقت ایک سائیڈ پر گیارہ گیارہ اور اتوار والے دن کبھی بارہ بارہ بھی ہوتے تھے دونوں سائیڈ پر دو اچھے گول کیپر .. ِیعنی ایک تو ہم ما بدولت اور دوسرے ہمارے پرانے دوست مجتبیٰ احمد عرف ” چریا ” اس فٹبال میں خاص بات یہ تھی کہ چھٹی والے دن کانٹے کا میچ ہوتا تھا اور پہچان کے لئے جس پر پہلا گول ہوتا تھا وہ اپنی T Shirt اتارتی تھی تو ظاہر ہے کہ پہلا گول بڑا مارا ماری کا ہوتا تھا.پھر ہارنے والی ٹیم پاپوش نگر لیجا کر لسی کے ساتھ بغیر چھینٹے کا شیر مال کھلاتی تھی. ….آج جہانگیر خان کے نام سے ایک فٹبال اسٹیڈیم بلاک آئ اور جے کے درمیانی میدان میں ( جو قبضہ مافیا سے بچ گیا ) قائم ہے . . ایک دوسری تصویر سیاسی شخصیات کی ہے جس میں مسرور احسن.امیر حیدر کاظمی وفاقی وزیر بھی رہے .PSF کے نجیب احمد ….- 2005-2001 میں سٹی ناظم بابائے کراچی نعمت اللہ خان جنہوں نے کراچی کا حلیہ بدل ڈالا. .

جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منور حسن. محمود اعظم فاروقی.اطہر قریشی. .اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ راشد نسیم…مولانہ اسلم خٹک جن کی شعلہ بیاں تقریر کے علاوہ ان کی جلالی دعا بڑی مشہور تھی.جس کی وجہ سے 1990 کے الیکشن میں D بلاک میں ایک جھگڑا بھی ہو گیا تھا..طاہر اے خان جو Cynamid کے پروڈکشن مینیجر تھے اور 1979 اور 1983 میں کونسلر رہے. ان کے بیٹے اسد اللہ خان جو NED کی جمعیت کے ناظم رہے اور آج کل Riphah یونیورسٹی سے وابستہ ہیں ریحان حسن جو کراچی یونیورسٹی جمعیت کے ناظم رہے پھر NTM ..اور جیو کے بانیوں میں سے ہیں. شیخ الجامعہ کراچی جناب” جمیل جالبی ” اردو ادب اور تعیلیم کے شعبہ کی ایک شاندار سخصیت.ان کر پڑوسی جسٹس” حازق الخیری” وہ بھی عدلیہ کا ایک بڑا نام اور طب کی دنیا کا ایک آئکون ڈاکٹر فریدالدین بقائ ..جسٹس عبادت یار خان.ضیاءالدین اسپتال والے ڈاکٹر عاصم حسین. نارتھ سٹی اسپتال اور بعد میں ساوُتھ سٹی کلفٹن والے ڈاکٹر رحیم الحق اور ان کی بیگم ڈاکٹر سعیدہ ملک…SM لاء کالج کے پرنسپل اور کئ قانون اور سود کے موضوعات کی کتب کے مصنف و موُلف سینئیر وکیل مسعود عباسی ایڈووکیٹ جن کا انتقال ہائ کورٹ کی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے ہوا..ان کی تو پوری فیملی ہی عدلیہ سے جڑی ہے اور اب ان کے بیٹے عقیل احمد عباسی اس وقت ہائ کورٹ کے سینئیر جج ہیں .بلاک H میں کچھ عرصہ ” پروین شاکر ” بھی رہائش پزیر رہیں اسلام آبادمنتقل ہونے سے پہلے. PTV کے پروڈیوسر علی رضوی بھی بلاک H میں ..احمد رشدی کے رشتہ داروں میں سے مگر جماعت اسلامی سے وابسطہ خاندان سے متین فاروقی جیو میں رہے اور اب رفاع یونیورسٹی کے میڈیا سائینس کے شعبہ میں ہیں

.پینٹ آرٹ کی دنیا کا ایک بہت ہی بڑا نام "اقبال مہدی” بھی یہیں کی پیداوار ہیں ان کا شاگرد رشید ہمارا بچپن کا دوست "تنویر فاروقی” آج پاکستان کے بڑے پینٹرز میں سے ایک ہے یہ بھی ہمارے Q بلاک کا پڑوسی…… اور دوسرا شاگرد فرخ ..اسی بلاک میں اس وقت علاقائ سیاست میں حصہ لینے والے ریٹاِیرڈ پولیس افسر اور شاندار سخصیت کے مالک چوہدری مظہر علی آج KE کے اسٹیک ہولڈرز کی نمائیندگی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر KE کو لگام ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں چوہدری صاحب صبح صبح اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پورے بلاک Q کے گرد واک کرتے ہوئے نظر آتے اور حالات حاضرہ و سیاست کے علاوہ راستے میں محلے کے لوگوں سے سلام دعا کرتے اور چلتے چلتے محلے کے مثائل پر بھی گفتگو کرتے رہتے. ..ماضی کےمشہور و با وقار اداکار و صدا کار ” ایس ایم سلیم ” کیا آواز کیا باوقار انداز گفتگو ان کے Q بلاک کے اسی گھر میں وحیدمراد کے ایک گانے کی بھی شوٹنگ ہوئ تھی ” اے ابر کرم آج اتنا برس” .پاکستانی فلم انڈسٹری کے آئکون ندیم کے والد بیگ صاحب. …اور شاہنواز خان جو اسٹیٹ لائیف میں ایک سینئیر پوسٹ پر تھے شطرنج کے اچھے کھلاڑی تھے اور پاکستان چیس(Chess) فیڈریشن کے صدر بھی رہے ان کے چھوٹے بھائ داور نواز خان TV کے کئ ڈراموں میں بھی کام کیا.کرکٹ کے اچھے کھلاڑی ” کیری پیکر” کے نام سے مشہور ہوئے جب ” پاک وانڈرز کلب” سے ایک تنازعہ کے بعد الگ ہو گئے تھے اور ایک پکڑ دھکڑ الیون بنا لی تھی اور ہر ٹورنامنٹ میں پاک وانڈرز سے پنگا لینا شروع کر دیا تھا.. ..

کراچی نفسیاتی اسپتال والے ڈاکٹٙر مبین اختر مشہور اور قابل سائکاٹرسٹ بھی Q میں پھر C میں اور بعد میں بلاک N میں رہے..زبردست آدمی..انھوں نے ایک اسکول بھی کھولا تھا Fun to Learn …جہاں بچوں کا یونیفارم کوئ نہیں تھا اور چھٹی کلاس تک کے بچوں کی کتاب کاپی بھی اسکول میں ..کوئ ہوم ورک نہیں..ڈاکٹر صاحب صبح سائکل پر اپنے کلینک رمپا پلازہ جاتے تھے.گاڑی ڈرائیور لے جاتا تھا ..پھر واپس بھی سائیکل پر.. پہاڑ گنج اور حسین ڈی سلوا ٹاوُن کے درمیان بھینسوں کا ایک باڑہ بھی تھا جہاں سے اکثر لوگ خود اپنے سامنے تازہ اور خالص دودھ نکلوا کر لاتے تھے ہم نے اکثر خصوصاً چنیوٹی حضرات کو دیکھا جو VESPA ( لنگی پہن کر تو ویسپا کی سواری ہی ہو سکتی ہے )پر دودھ کا ڈول لیکر وہاں آتے دیکھا جب ہم صبح صبح یوتھ سینٹر جارہے ہوتے تھے
یہاں تک تو سب اچھا ہے ہر ماضی کی داستان کی طرح ……..

مگر یہ ہوا کیا آخر ہمارے نارتھ ناظم آباد کو..کس کی نظر لگ گئ..کس نے سازش کی ..کس کی گڑ بڑ تھی….وہ علاقہ جہاں پر ہم دن و رات بغیر کسی ڈر و خوف کے جہاں مرضی جاتے آتے تھے..ہمارے گھروں میں تالے نہیں لگتے تھے..صبح کے وقت تقریباً ہر بلاک میں مارننگ واک اور رات کو کھانا ھضم کرنے کی چہل قدمی میں خواتین بھی شامل ..رات دیر تک مختلف قسم کی محفلیں لگتی تھیں..بلاک A.C.D.H.M. کی سڑکوں پر ٹینس بال سے کرکٹ کے مشہور اور یاد گار ٹورنامنٹ ..پھر نائیٹ ٹورنامنٹ بھی شروع ہوگئے..ہاکی کے بھی کئ بڑے ٹورنامنٹ ..سب ختم……….پھر جو سیاسی مارا ماری شروع ہوئ ہے تو ابھی تک ختم نہیں ہوئ..ووٹ لینے کے بعد نارتھ ناظم آباد پر اپنا حق جتانے والوں نے اس کو ایسا لوٹا کھسوٹا ہے کہ اب تو نارتھ ناظم آباد کے چیتھڑے اڑ گئے ہیں لگتا ہے کہ کچھ بچا ہی نہیں…نارتھ ناظم آباد کا آئکون یعنی اس کی پہاڑی پر اوپر تک جانا تو ایک تفریح اور Thrill ہوتا تھا اس کی چوٹی پر بیٹھ کر پورے شہر کا نظارہ.. اب آپ وہاں جا نہیں سکتے .R بلاک میں ایک ہل پارک کا منصوبہ بس منصوبہ ہی رہ گیا ..قبضہ مافیا نے وہ حشر کیا کہ الامان و الحفیظ جامعہ مسجد A بلاک کا وہ پارک جس میں ٹینس کورٹ تھا..اشرف مسجد کا کھیل کا میدان ..کوکن مسجد بلاک D کا پارک. مسجد صدیق اکبر بلاک آئ یہ سب عرف عام چائینا کٹنگ کا شکار ہوگئے..اور چار چار منزلہ فلیٹ بن گئے. اس وقت پورے نارتھ ناظم آباد میں دو کھیل.کے میدان ہیں اصغر علی شاہ اسٹیڈیم اور جہانگیر خان فٹبال ب..یعنی عام عوام کے لئے وہ بھی نہیں ..اور صرف دو پارک ہیں بلاک F میں گلاب محل والا..اور بلاک J میں .. مصطفیٰ آباد پرانی نصرت بھٹو کالونی سے اگر نکلیں اور پاپوش نگر کی جانب چلیں یہ سڑک اس بری طرح سے ٹوٹی ہوئ ہے کہ گزرنا محال ہے کئ الیکشن ہوئے کئ حکومتیں آئیں مگر ???? پہاڑ گنج چورنگی سے گزریں ..مگر کیسے گزریں .کیا ? ..سمجھ میں نہیں آتا.کچرے کے ڈھیر..اصغر علی شاہ اسٹیڈیم کی دیوار کے ساتھ کچرے کےپہاڑ بنے ہوئے ہیں لگتا ہے کہ کچھ دنوں کے بعد پول والٹ کے زریعہ اس کو عبور کرنا پڑے گا..اس کے بعد عبداللہ.کالج چورنگی سے گزرنا …چے معنی دارد..پھر اس شاہراہ نور جہاں پر پچھلے دنوں لا قانونیت کی جو انتہا تھی .وہ تو شکر ہے کہ اب ختم یا کم ہوئ ہے……..

ایک بہت بڑا ستم نارتھ ناظم آباد پر بلڈرمافیا نے کیا ہے ..جس بے ہنگم طریقہ سے مکانات کو توڑ کر سہ منزلہ چارمنزلہ عمارات بنائ ہیں ..کوئ پوچھنے والا نہیں …جہاں پر پہلے پانچ یا چھ افراد کا خاندان رہتا تھا اب وہاں 20-25 لوگ رہنا شروع..بلکہ بعض پلاٹس پر تو دو سو سے تین سو افراد ..پانی وہی ..گٹر لائین وہی.پارکنگ وہی گلی کی چوڑائ وہی….سماجی مثائل شروع ہو گئے..نارتھ ناظم آباد کی مین شاہراہ کی طرف آئیں تو خوف آنے لگتا ہے کہ جہاں پہلے 600 یا 1000-1500 گز کے سنگل یا چند ڈبل اسٹوری کے مکانات تھے وہاں اب اونچے اونچے ہائ رائز پلازہ بن گئے ہیں سر اٹھا کر دیکھیں تو ٹوپی گر جائے اگر پہنی ہو تو….اور ابھی بھی مزید پلازے بنتے چلے جا رہے ہیں ..یہ سڑک کمرشل ہو گئ ہے اور مستقبل قریب میں ہر بچا کچھا مکان بھی ٹوٹ کر پلازہ بن جائے گا.شاہراہ نور جہاں بھی کمرشل ڈکلئیر ہو چکا ہے وہاں بھی اب جلد ہی مارا ماری شروع ہونے والی ہے… .نارتھ ناظم آباد میں امن و امان کی صورت حال بگڑنے کے بعد یہاں کی بہت بڑی اکثریت یہاں سے غیر ممالک یا کم از کم ڈیفنس اور کلفٹن اور گلشن .جوہر اور PECHS چلی گئ ہے اور یہاں اب پورے شہر سے لوگ آکر بسنا شروع ہو گئے جن کا رہن سہن کچھ مختلف ہے …اور جو پرانے رہائشی ہیں ان کا مزاج ان سے ملتا نہیں ہے..کئ طرح کے سماجی اور نفسیاتی مثائل بھی پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں………

دراصل حکومتی سطح پر کمزور پالیسیوں اور ان پر اس سے بھی زیادہ کمزور اقدامات سے لینڈ مافیا ..قبضہ مافیا.منشیات مافیا.اور بھتامافیا نے اس صورت حال سے بہت فائیدہ اٹھایا..جن کو بہرحال پولیس اور سیاسی جماعتوں کی بھرپور سرپرستی حاصل رہی ہے اور انہوں نے خوب کھل کھیلے ہیں..اور وہ سب آپس میں اتنا مضبوط گٹھ جوڑ رکھتے ہیں کہ علاقہ کو اچھا اور درست رکھنے والوں کی آواز تو دب کر رہ گئ..اس مافیا سسٹم میں نا کوئ مہاجر ہے نا پٹھان نا کوئ سنی ہے نا شیعہ نا کوئ دیو بندی ہے نا بریلوی.سب کسی ناکسی جھنڈے کے نیچے پناہ لئے ہوئے.. نارتھ ناظم آباد کے کئ پارک اور کھیل کے میدان چائنا کٹنگ کا شکار ہوگئے..جامعہ مسجد A بلاک کا گراوُنڈ جہاں چھوٹے بچے کھیلتے تھے اور ہمارا ٹینس کورٹ بھی تھا, اشرف مسجد بلاک C/D کا میدان جہاں ہم نے کرکٹ ..ہاکی..اور فٹبال.کھیلی , کوکن مسجد بلاک D کا پارک , مسجد صدیق اکبر بلاک آئ کا پارک , شاہراہ نور جہاں تھانہ جس پارک میں واقع ہے یہ سب قبضہ مافیا کے ہاتھوں چائنا کٹنگ کا شکار ہوگئے..کٹی پہاڑی جس کو کہتے ہیں یہ بلاک Q اور R کے درمیان ہے اد کے بننے سے نارتھ ناظم آباد اور اورنگی ٹاوُن میں فاصلہ تو کم ہو گیا مگر جرائم کی بہتات ہو گئ. افسوس یہ ہے کہ ان تمام جرائم اور مافیا کو سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کی سرپرستی حاصل رہی اور یہ تمام جرائم پیشہ ان جماعتوں کی اوپر کی سطح پر بھی پہنچ گئے…………….

وہ علاقہ جو اس وقت سماجی کارکن وصی حیدر شاہ بہ معروف "ڈاکٹر کاکو” .علمی و ادبی شخصیات عنایت اللہ اسماعیل ادیب..مدرس و مقررانجم رفعت اللہ..ریحان علی خان. بہترین مقرر ریحان اطہر…شاہد الاسلام رشی( جو اپنے بہت سارے حوالوں سے مشہور ہیں) ..ہمایوں نقوی.عبدالستار شاہ.نعت خوانی اور میلاد کی محفلوں کی وجہ سے مشہور تابندہ لاری ( آپا) کراچی یونیورسٹی اسٹیٹس ڈپارٹمنٹ کے کرکٹ کے شوقین مگر دیکھنے اور لکھنے کے شکیل احمد خان ( مرحوم ) ..انجینئیر خالد حق.طارق حق.طارق امام الدین .پہلے پہل پیپلز پارٹی اور بعد میں مسلم لیگی انوار محمد فاروقی کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا بعد میں کچھ عجیب و غریب نام والے لوگوں سےمشہور ہونے لگا.. عفیف علوی.جعفر برادرز کے سیف الدین جو کہ کرکٹ کے ریکارڈز کے حافظ تھے. ..مسلم لیگی عبید الرحمان ایڈووکیٹ..خلیلی برادرز جو آج کل میٹ ون کے نام سے گوشت کی چین چلا رہے ہیں …یہ وہ لوگ تھے جو نارتھ ناظم آباد میں مختلف قسم کی محفلیں منعقد کرتے رہتے تھے..ہمارے بچپن کے دوست شاہد حبیب جو سات بھائ تھے..یہ بھی بلاک Q کے..اب تو ماشاء اللہ اسٹیل کی مصنوعات کے بڑے کاروبار کر رہے ہیں ان کے بڑے بھائ باکسنگ کے بڑے اچھے کھلاڑی تھے..میرے بڑے بھائ کرنل رفیق اللہ اسماعیل جو فوج سے ریٙٹائیرڈ ہوئے ان کے کئ ساتھی اور ان سے جونئیر اور سینئیر فوج کے اعلیٰ عہدوں پر پہنچے جن میں سے بیشتر کا تعلق نارتھ ناظم آباد سے تھا..

ٹیکسٹائل کے شعبہ سے وابسطہ لاری فیملی جن کے نام سے تو بلاک F میں لاری اسٹریٹ بھی ہے……. ایک وقت تھا کہ لوگ پورے شہر سے رات گئے خصوصاً نائٹ کرکٹ کے بعد . بلاک p حسین ڈی سلوا ٹاوُن میں پہاڑی پر واقع ہوٹل میں کڑھائ گوشت اور دال فرائ کھانے آتے تھے..جو رات بھر کھلتا تھا اسٹیل کی بڑی ڈش میں سرونگ کا انداز ہی کچھ اور تھا..ساتھ میں تندوری روٹی..ایک رش لگا رہتا تھا..قریب ہی پراٹھوں کے پیڑے تیار ہو رہے ہیں مگر وہ صبح فجر سے پہلے پراٹھہ نہیں بیچتا تھا کہ وہ رات کا نہیں ناشتہ کا آِئٹم تھا پراٹھہ صبح فجر کی نماز کے بعد ہی فروخت ہو گا..اور اس کے ساتھ ملائ.. چنے.اور مخصوص انداز کے انڈا فرائ یا آملیٹ اور زبردست دودھ پتی کڑک چائے
..اب وہاں پر وہ رش نہیں لگتا جس کی وجہ ظاہر ہے کہ امن وامان کی صورت حال ہے..لوگوں نے وہاں جانا چھوڑ دیا .بلاک A میں کیفے لارڈز کے پیچھے والی گلی میں اسلم ہوٹل جہاں کی دودھ پتی چاِئے اور ایک بوڑھا ویٹر اپنی لاوُڈ اسپیکر والی آواز کی وجہ سے مشہور ..ایک اور لاوُڈ اسپیکر والی آواز ڈی سلوا ٹاوُن والے کلام کی تھی جو گلی کے کرکٹ میچ میں اعلانات کرتے رہتے تھے.. .نارتھ ناظم آباد میں اچھی دہی کی لسی ( دماغ کی نہیں ) کے چھ مراکز تھے .. بلاک A میں قادری مارکیٹ .بلاک D میں اسلم مارکیٹ بلاک C اور N میں ناگوری ملک شاپ..بلاک G حیدری میں تیموریہ مسجد کے سامنے اور بلاک L میں دسویں گلی کے کونے پر حبیبیہ کیمسٹ کے سامنے دلبہار ملک شاپ پر.تب تو بچے بڑے فیملی کے ساتھ ان دکانوں پر آتے تھے اب تو ٹیک اوےTake a Way کا زمانہ شروع ہو گیا
.اور "پوری چھولے” بلاک L ..D..C میں تھے جن میں کاریگر ملتانی ہوتے تھے . چھٹی والے دن تو باقاعدہ لائین لگی ہوئ ……اور بلاک C .A.Q والوں کو C بلاک میں ” آنٹی” کا ہوٹل کس کو یاد نہیں جو وہ اپنے بوڑھے اور کم گو شوہر اور ایک بیٹی کے ساتھ چلاتی تھیں .وہاں پر کولڈ ڈرنک.آئیس کریم اور سردیوں میں سوپ….ان کا چڑچڑا پن اور بات بات پر گاہکوں کو ڈانٹنا…اور لڑکوں کا بار بار وہاں جانا اور ان کو تنگ کرنا بھی ایک ایکٹیویٹی تھا مگر یہ تنگ کرنا بدتمیزی یا بد تہزیبی میں نہیں تھا..پھر وہ آنٹی احمد علی سے شکایت کرتیں اور احمد علی ان لڑکوں کو تلاش کرتے پھرتے .ان سے تھوڑا سا ہی آگے نالے والی سڑک پر  غوری صاحب کے گھر کے پیچھے ” پیار علی ” کا چائے ہوٹل بھی اس وقت کے لوگ نہیں بھولے ہوں گے.. ڈاکٹر نورالدین پنجوانی جن کی کوششوں سے بہت سے لوگ مسلمان ہوئے.اور ان کے بیٹے امین پنجوانی وہ بھی ایک الگ ہی کیریکٹر …. …

حیدری میں سات عدد فوٹو اسٹوڈیو تھے.ایک کولڈ اسپاٹ اسنیک بار جہاں پر سانچہ سے کٹے ہوئے کباب کا برگر..سامنے مرتضیٰ نمکو..اور حیدری سویٹ جہاں کے حلوے بڑے اچھے اور مشہور تھے پھر دہلی مسلم ہوٹل آگیا جہاں کے تکے اور کباب …..پھر بہت ہی پرانی اورمشہور و مقبول آئس کریم کی دکان ” مونٹینا ” جس کی ڈرائ فروٹ ٹوٹی فروٹی تو بہت ہی مزیدار تھی.. ابھی کچھ دن پہلے میں گیا تھا تو شائید ویسا مزا نہیں آیا .شائد زائقہ نہیں بلکہ وقت بدل گیا ہے..اب تو وہ ساری مارکیٹ ہی نئ بن گئ ہے اس وقت تو لکڑی کی چھت ہوتی تھی سادہ سی بنچیں ..نارتھ ناظم آباد تھانہ آج جس جگہ موجود ہے وہاں پر ایک خالی میدان ہوتا تھا جہاں ہم.نے کرکٹ بھی کھیلی ہے بعد میں تھانہ بن گیا اسی میں تینوں سڑکوں کی طرف بہت ساری دکانیں بھی نکال دی گئیں جن میں اب میکینکس اور سائیلنسر بنانے والوں کی دکانیں کھل گئ ہیں .. اسی میں ہمارے دو دوستوں شاہد اور صابر نے ایک آڈیو ویڈیو کی دکان بھی کھولی تھی "ڈبل S” ویڈیو..بعد میں ان سے ایک اور محلہ والے صولت جمال نے لے لی..یہ سارا علاقہ مکس آبادی والا تھا مگر اکثریت بوہری اور اسماعیلی برادری تھی..سائڈ والی مارکیٹ میں تو گویا کہ ڈیکوریشن والوں کی مارکیٹ تھی…پھر بالکل سامنے مین سڑک پار کر کے ” حیدری مارکیٹ ” دائیں ہاتھ پر پوسٹ آفس سے شروع ہو کر بائیں ہاتھ پر تیموریہ مسجد اور سامنے اس مین سڑک سے لیکر پیچھے ABL..سہیل اپارٹمنٹس اور ڈاکٹر اطہر قریشی کے گھر تک دکانیں تھیں . جہاں پورا سال خریداری مگر پورے رمضان ادھر جیسا رش پورے کراچی میں نہیں دیکھا…یہاں کپڑوں کے علاوہ جیولرز کی دکانیں جن میں سے بعض بعد میں بلڈر بن گئے..بلاک D میں 5 Star Restaurent …بہت ہی مشہور …بلاک L میں JoJo جو جو اسنیک بار جو کراچی میں چکن بروسٹ کی تیسری دکان تھی اور سامنےگلگتی کا Donizel ڈونیزل ریسٹورینٹ .جس نے نارتھ ناظم آباد میں باہر سے آکر کھانا کھانے والوں کا رش بڑھایا.پھر سامنے سہیل نہاری جس کا کراچی میں تیسرا نمبر ہے.E بلاک کی مارکیٹ میں بڑے میاں کی دہی بڑا چاٹ ایسا زائیقہ ان کے علاوہ کہیں نہیں پایا.. بعد میں وہ حیدری کی پارکنگ میں منتقل ہو گئے تھے..بلاک L میں بہت ہی پرانی کوہ نور بیکری جہاں کی ڈبل روٹی بڑی مشہور تھی..اور دسویں گلی میں کاشف کارپوریشن بارگین سینٹر جہاں پر پرانی گھریلو اشیاء کی خریدو فروخت ہوتی تھی..

گئے دنوں میں تو نارتھ ناظم آباد جہاں پر ” کراچی اور NED یونیورسٹی” اور شہر کے دونوں میڈیکل کالج اور داوُد انجینئیرنگ کالج کے سب سے زیادہ پوائنٹ بس آتی تھیں کہ یہاں پر طلبہ کی تعداد ہی نسبتاً شہر میں سب سے زیادہ تھی….مگر اب کیا حال ہے …اس کا کسی سے کیا پوچھنا…اب تو شائد نارتھ ناظم آباد میں ہی واقع سینئیر تعلیمی اداروں کے معیار کا جائزہ لیا جائے تو شائد افسوس ہی ہوگا……

ویسے آج کے نارتھ ناظم آباد کو دیکھیں تو ایک پورا بازار ہے اسکول..شادی ہال.فوڈ چین.بینک.اسپتالوں کا..اور بڑی بڑی اونچی اونچی عمارتوں کا.. ہائے کیا وقت تھا جب ہمارے دوست امتیاز قادری کے گھر پر 22 محرم کو ان کے دادا کے عرس میں رات بھر قوالی کی محفل میں بیٹھنا…ربیع الاول میں نعتیہ محفلیں اور سیرت پر جلسے ..14 اگست پر محلوں کو سجانا اور کھیلوں کے مقابلے..محرم میں حلیم کی دیگیں پکانا.شب برآت میں حلوہ پکانا اور قبرستانوں کی زیارتیں..پیدل پیدل..شب معراج بھی دھوم دھام سے مساجد میں نوافل ادا کرنے والوں کا رش. ..محلوں میں مختلف گھروں کے باہر چبوتروں پر کیرم بورڈ ..شطرنج..ڈرافٹ یا لوڈو کے مقابلے..سردیوں میں سڑک پر ہی نیٹ باندھ کر بیڈ منٹن کھیلنا..Q بلاک میں مدت سے خالی پڑے ایک پلاٹ پر ہم نوجوانوں نے خود اپنے ہاتھوں سے ایک بہت ہی اچھا بیڈ منٹن کورٹ بنایا تھا اور اس پر پورے کراچی کی سطح کا ایک بڑا ٹورنامنٹ بھی کروایا تھا .محلے میں کسی ایک گھر میں شادی یا مرگ میں پورے محلہ کی گھر والوں کی طرح شرکت ..ہاں قربانی …یا تو اجتماعی قربانی محلے بھر میں چار پانچ گائے جس میں سب کا ایک ایک حصہ..اور سب مل کر لینے بھی جارہے ہیں اور دیکھ بھال بھی…اور اگر کسی نے اکیلا جانور کیا ہے تو قصائ نہیں آتا بلکہ آپس میں ہی یار دوست مل کر قربانی کر رہے ہیں..یہ بھی شغل ٹہرا..رمضان …پوری رات تراویح..جاگنا..اور سحری کے بعد کرکٹ ٹورنامنٹ .پتنگ بازی جس کے ٙٹورنامنٹ بھی ہوتے تھے.کبوتر بازی اس کا شوق بھی بہت لوگوں کو تھا……عید تو خیر ہوتی ہی تھی محلے والوں کے ساتھ ..ایک.دوسے کے گھر جانا.. اور اب ان گزرے ہوئے ایام کی طرف سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ کیا ہمارے بچے اس طرح کا کوئ ماحول دیکھ پائیں گے ..جہاں رشتہ داروں سے. زیادہ پڑوسیوں سے تعلق داری ہوتی تھی..ویسے آج بھی ایک بہت بڑی اکثریت ایسی ہی جو ساٹھ یا ستر کی دھائ سے وہاں رہ رہی ہے یا بعد میں یا ابھی حال ہی میں یہاں منتقل ہوئے ہیں اور جیسا کہ بچے بڑے ہوگئے انکے بچوں کی بھی شادیاں ہو چکیں مگر انہوں نے نارتھ ناظم آباد نہیں چھوڑا.. اسی کو تو عشق کہتے ہیں .

ویسے اگر ابھی بھی کچھ لوگ کوشش کریں تو شائید نارتھ ناظم آباد کی پرانی روایتی رونق بحال ہو سکتی ہے ..جیسا کہ ہمارے ” استاد ” آرٹس کونسل کے شکیل خان..صہیب جمال جن کے جملوں کی کاٹ سوشل میڈیا پر بڑی مشہور ہےاور انہوں نے ابھی حال ہی میں ایک چائے کی کمپین بڑی اچھی کاپی رائٹنگ کے ساتھ چلائ ہے جس سے کئ بڑے غیر ملکی برانڈز بلبلا اٹھے ہیں .کراچی کے سب سے بڑے ادبی فورم ” بزم شعرو سخن کے جنرل سیکریٹری خالد میر بھی بلاک آئ میں فلیٹ سے ایک بڑے مکان میں منتقل ہو چکے ہیں جہاں پر ان کی بیٹیوں نے نسلی بلیوں کے لئے ایک بہت اچھا Cat House بنایا ہے اور خالد میر نے شاعروں کے لئے ایک ” کچھار” ……. پھر عبدالستار شاہ .ہمایوں نقوی.شاہد اسلام رشی.نعمان لاری .قاضی صدرالدین اور اس طرح کے اور بھی صاحب علم و ہنر موجود ہیں جو اپنا حصہ بقدر جسہ ڈال سکتے ہیں .تو آئیے نارتھ ناظم آباد کی رونق بحالی کے لئے قدم بڑھائے

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...