ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

موت سے مفر نہیں

موت ایک اٹل حقیقت ہے جو اس دنیا میں آیا ہے ہر نفس کو ایک نہ ایک دن موت کاذائقہ چکھنا ہے۔ موت کے میٹھے یا کڑوے ذائقے کا دار ومدار انسانی اعمال پر منحصر ہے، البتہ ذائقہ چکھنے سے کوئی کسی صورت بچ نہیں سکتا، جیساکہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘‘۔ موت کیا ہے ،روح کا بدن سے تعلق ختم کرنے والی اور اس دار فانی سے دار بقا کی طرف لے جانیوالی ہے۔ موت تمام جانداروں کو ہلاک کرنے والی، بچوں کو یتیم کرنے والی، عورتوں کو بیوہ بنانے والی، دنیاوی ظاہری سہاروں کو ختم کرنے والی، دلوں کوپتھرانے والی، آنکھوں کو رلانے والی،بستیوں کو اجاڑنے والی، جماعتوں کو منتشر کرنے والی، دنیاوی لذتوں کو ختم کرنے والی، امیدوں پر پانی پھیرنے والی، ظالموں کو جہنم کی وادیوں میں جھلسانے والی اور متقیوں کو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والی ہے۔ موت کبھی بھی آسکتی ہے، اس کا ٹائم بھی مقرر ہے اور جگہ بھی۔ موت دیگر مخلوقات کی طرح خالق کائنات کے حکم ’’کن ‘‘سے وجود میں آئی ہے اور ہمیشہ انسانی نظروں سے اوجھل رہتی ہے، انسان اسے ڈھونڈتے ہوئے بھی نہیں پاسکتا، بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بجا ہوگا کہ انسانی آنکھ اسے زندگی میں دیکھنے سے قاصر ہے۔ کوئی دیکھے بھی تو کیسے دیکھے نہ ہی اس کا کوئی مکان ہے اور نہ ہی یہ مکین ہے اور نہ اس کا کوئی مخصوص راستہ ہے کہ انسان گھات لگاکر اسے پکڑلے ۔ یہ جس گھر کا رخ کرتی ہے کہرام مچادیتی ہے، وہاں کے مکینوں کو رنج والم کی چادر اوڑھا دیتی ہے حتیٰ کہ عرصہ دراز تک وہاں کی فضا سوگوار ہوجاتی ہے۔ موت نہ دنیاوی طاقت و اقتدار والوں سے ڈرتی ہے، نہ بادشاہوں سے ان کے دربار میں حاضری کی اجازت لیتی ہے۔ موت حکم الٰہی کی ہمیشہ منتظر رہتی ہے ،حکم ملنے پر پلک جھپکنے کی سی دیر نہیں کرتی اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ہدف کی تلاش میں نکل پڑتی ہے، چاہے وہ دن میں آنکھوں کو چندھیا دینے والی سورج کی شعاعوں میں ہو یا ظلمت شب کی تاریک راہوں میں، شہر میں ہو یا بستی میں، بازاروں میں ہو یا ویرانوں میں، غرض یہ کہ جہاں بھی ،جس حالت میں اپنے ہدف کو پاتی ہے لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوجاتی ہے۔ دنیا میں زندگی کی انتہاء موت ہے ، اورانسان پر موت طاری کرنے کا مقصد انسان کو جانچنا ہے کہ اس نے چند روزہ دنیاوی زندگانی میں اپنے اعمال واقوال کے ذریعے اپنے لئے جنت کو سنوارا ہے یا جہنم کی آگ کو بھڑکایا ہے۔

 

بہترین ہے وہ شخص جو دنیا کی مصروفیت کے باوجود موت کو اس طرح یاد رکھے کہ ہر روز کے بارے میں یہ خیال کرے کہ یہ اس کی زندگی کا دن آخری دن ہے ، اور اس آخرت کی فکر کرے جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے ۔ موت کی یاد ایمان کو نئی جلا بخشتی ہے اور انسان کو برائیوں سے روکتی اور نیکیوں کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ آج ہم نے دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر موت کو بالکل بھلا دیا ہے، ہم نے اس فانی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے، ہم دنیا کی خرافات میں لگ کر قبر، حشر کو بھول گئے ہیں۔اور کسی بھی وقت موت کا فرشتہ آ پہنچے گا، اس وقت ہمارے پاس سوائے پچھتاوے اور افسوس کے کچھ نہ ہو گا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا اپنی تصنیف موت کی یاد میں رقم فرماتے ہیں کہ ’’ موت دنیا وآخرت کی سب تکلیفوں سے سخت ہے، وہ قینچیوں سے کتر دینے سے زیادہ سخت ہے، وہ دیگ میں پکانے سے زیادہ سخت ہے۔ اگر مردے قبر سے اٹھ کر مرنے کی تکلیف بتائیں تو کوئی شخص بھی دنیا میں لذت سے وقت نہیں گزار سکتا، اور میٹھی نیند اس کو نہیں آسکتی‘‘۔

بلاشبہ سمجھدار وہ شخص ہے جس کو موت ہر وقت یاد ہے اور وہ فکر آخرت میں مشغول ہے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے حضور صلی اللہ عیہ وسلم سے عرض کیا کہ ’’سب سے زیادہ سمجھدار اور سب سے زیادہ محتاط آدمی کون ہے؟ ‘‘آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا’’ جو لوگ موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والے ہوں اور موت کے لئے سب سے زیادہ تیاری کرنے والے ہوں، یہی لوگ ہیں جو دنیا کی شرافت اور آخرت کا اعزاز لے اڑے‘‘۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ’’ قبرستان جایا کرو ، اس سے آخرت یاد آئے گی۔ اور مردوں کو غسل دیا کرو کہ یہ (نیکیوں سے)خالی بدن کا علاج ہے ، اور اس سے بڑی نعمت حاصل ہوتی ہے اور جنازہ کی نماز میں شرکت کیا کرو ،شاید اس سے کچھ رنج وغم تم میں پیدا ہوجائے کہ غمگین آدمی (جس کو آخرت کا غم ہو) اللہ تعالیٰ کے سایہ میں رہتا ہے اور خیر کا طالب رہتا ہے‘‘۔ امام غزالی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ موت کا معاملہ بہت زیادہ خطرناک ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں۔ اول تو اپنے مشاغل کی وجہ سے اس کا تذکرہ ہی نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تب بھی چونکہ دل دوسری طرف مشغول ہوتا ہے اس لئے محض زبانی تذکرہ مفید نہیں، بلکہ ضرورت اس کی ہے کہ سب طرف سے بالکل فارغ ہوکر موت کو اس طرح یادکیا جائے گویا وہ سامنے ہے.

 

جس کی بہترین صورت یہ ہے کہ اپنے عزیز واقارب اور جاننے والے احباب کا حال سوچے کہ کس طرح انہیں چار پائی پر لے جاکر مٹی کے نیچے دفنا دیا گیا۔ان کی صورتوں کا ، ان کے اعلیٰ منصب کا خیال کرے اور یہ غور کرے کہ اب مٹی نے کس طرح ان کی صورتوں کو پلٹ دیا ہوگا، ان کے بدن کے ٹکڑے الگ الگ ہوگئے ہوں گے، کس طرح وہ بچوں کو یتیم، بیوی کو بیوہ اور عزیز واقارب کو روتا چھوڑ کر چلے گئے، اور ان کے سامان، ان کے کپڑے پڑے رہ گئے، یہی حشر ایک دن میرا بھی ہوگا۔ کس طرح وہ مجلسوں میں بیٹھ کر قہقہے لگاتے تھے آج خاموش پڑے ہیں،کس طرح دنیا کی لذتوں میں مشغول تھے آج مٹی میں ملے پڑے ہیں، کیسے موت کو بھلارکھا تھا آج اس کا شکار ہوگئے۔ کس طرح جوانی کے نشہ میں تھے آج کوئی پوچھنے والا نہیں، کیسے دنیا کے دھندوں میں ہر وقت مشغول رہتے تھے آج ہاتھ الگ پڑا ہے پاؤں الگ ہے ، زبان کو کیڑے چاٹ رہے ہیں، کیسا کھل کھلا کر ہنستے تھے آج دانت گرے پڑے ہیں۔ کیسی کیسی تدبیر یں سوچتے تھے برسوں کے انتظام سوچتے تھے حالانکہ موت سر پر تھی، مرنے کا وقت قریب تھا، مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ آج رات میں نہیں رہوں گا ، اور میرا بھی یہی حال ہونا ہے، آج میں اتنے انتظامات کررہا ہوں مگر کل کی خبر نہیں کہ کل کیا ہوگا‘‘۔ ہماری زندگی کے سال گررہے ہیں، ہم لمحہ ، ہر روز اپنی موت کے قریب ہورہے ہیں۔ سمجھداری کا تقاضہ یہی ہے کہ مرنے سے قبل مرنے کی تیاری اور آخرت کی فکر کرنی چاہیے، اور تمام گناہوں سے توبہ کرکے نیک اعمال کی طرف سبقت اختیار کرنی چاہئے۔ قرآن مجید فرقان حمید کی سورۃ الزمر میں فرمان الٰہی ہے ’’اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ‘‘۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو مرنے سے قبل دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر اور بہترین تیاری کی توفیق عطا فرمائے ، اور دونوں جہانوں کی کامیابی عطا فرمائے ، آمین۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...