ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

مولانا سمیع الحق کون تھے؟

جمعیت علمائے اسلام(سمیع الحق) کے سربراہ مولانا سمیع الحق 1937 میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے اور دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی جس کی بنیاد ان کے والد مولانا عبدالحق نے رکھی تھی۔ انہوں نے مدرسہ حقانیہ سے فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، منطق، عربی گرامر، تفسیر اور حدیث کا علم سیکھا۔ انہیں اردو کے ساتھ ساتھ عربی اور پشتو سمیت دیگر علاقائی زبانوں پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔

1988 میں مولانا عبدالحق کی وفات کے بعد مولا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم بن گئے تھے اور یہ مانا جاتا ہے کہ طالبان کے متعدد سرکردہ رہنماؤں نے ان کے مدرسے سے تعلیم حاصل کی جس کی وجہ سے انہیں ’فادر آف طالبان‘ بھی کہا جاتا تھا۔ سیاست میں قدم رکھنے کے بعد مولانا سمیع الحق جمعیت علمائے اسلام کا اہم حصہ تھے لیکن سابق فوجی آمر جنرل ضیال الحق کے دور میں جمعت علمائے اسلام میں اختلافات کے نتیجے میں مولانا سمیع الحق نے اپنی سابقہ جماعت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام(سمیع الحق گروپ) کی بنیاد رکھی اور جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کے رکن بنے۔

مولانا سمیع الحق کا سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں بھی اہم کردار رہا اور وہ طالبان کے تمام دھڑوں میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کے مدرسہ حقانیہ سے طالبان کے سرکردہ رہنما ملا عمر نے بھی تعلیم حاصل کی اور ان کے ملا عمر سے انتہائی قریبی مراسم تھے۔

آپ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے بانی اراکین میں شامل تھے جبکہ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین بھی تھے۔ مولانا سمیع الحق نے پولیو کے خلاف حکومتی مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا اور جب 2013 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پولیو کے حفاظتی قطروں کی مہم کو غیراسلامی قرار دیا تھا تو اس وقت مولانا نے اس مہم کے حق میں فتویٰ جاری کیا تھا۔

دسمبر 2013 میں سمیع الحق کی جانب سے دیے گئے فتوے میں کہا گیا تھا کہ مہلک بیماریوں کے خلاف حفاظتی قطرے پولیو کے خلاف بچاؤ میں مددگار ہوتے ہیں اور طبی ماہرین کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ان بیماریوں سے بچاؤکے قطرے کسی بھی طرح سے مضر نہیں ہیں۔

طالبان پر اثرورسوخ کے سبب افغانستان کی جانب سے مولانا سمیع الحق سے مستقل مطالبہ کیا جاتا تھا کہ وہ افغانستان میں امن اور سیاسی حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر اعظم عمران خان کا بھی مولانا سمیع الحق سے قریبی تعلق رہا جس کی وجہ سےموجودہ وزیر اعظم کو کئی مرتبہ ’طالبان خان‘ ک لقب دیا گیا۔

رواں سال سینیٹ الیکشن میں عمران خان نے جمعیت علمائے اسلام(س) کے سربراہ کی حمایت کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود مولانا سمیع الحق کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔مولانا سمیع الحق کی عمر 80سال سے زائد تھی اور آج راولپنڈی کی نجی سوسائٹی میں واقع گھر میں انہیں چھریوں کے وار کر کے شھید کردیا اور وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ اسکوجنت میں اعلی مقام عطاءفرمائیں۔آمین۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...