ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

کیا شاتم رسول کی سزا قتل ہے؟

اس بارے فقہاء کا اتفاق ہے کہ اگر کسی مسلمان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو وہ مرتد ہو جاتا ہے اور وہ واجب القتل ہے۔ لیکن اگر ایسا شخص غیر مسلم ہو تو اس بارے جمہور فقہاء امام مالک، امام شافعی اور امام احمد وغیرہ کا کہنا ہے کہ یہ شخص حدا قتل کیا جائے گا یعنی شریعت میں اس کی سزا قتل مقرر کی گئی ہے لیکن امام ابو حنیفہ کا قول ہے کہ ذمی کو توہین رسالت میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ فقہائے احناف کا کہنا ہے کہ ایسے شخص کو تعزیرا قتل کیا جائے گا یعنی حکمران کی صوابدید ہر قتل کیا جائے گا۔

ہمیں دوسری رائے سے اتفاق نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم یہ بات مان لیں کہ ذمی کو تعزیرا قتل کیا جا سکتا ہے تو ہمیں اصولی طور یہ ماننا پڑے گا کہ حکمران تعزیرا کسی کو قتل کر سکتا ہے۔ اور حکمران کا تعزیرا قتل کرنا، اس کی رائے ہے اور رائے کی بنا پر کسی کا خون حلال کرنا ہماری نظر میں بالکل بھی درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ وہ حرمت ہے جو اللہ عزوجل نے انسانی جان کو عنایت فرمائی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ۔ اور کسی جان کو کہ جسے اللہ عزوجل نے محترم ٹھہرایا ہے، قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔ اور حق سے مراد یہاں پر نص صریح ہے۔

اگرچہ فقہاء کی ایک جماعت تعزیرا قتل کی سزا کی قائل ہے جیسا کہ امام مالک نے مسلمان جاسوس کے قتل کو جائز قرار دیا ہے اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس شخص کا قتل جائز ہے جو بار بار عمل قوم لوط (homosexuality) میں مبتلا ہو۔ اس اصول کو بطور اصول مان لینے سے بہت خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں جیسا کہ فقہاء کی ایک جماعت نے ماضی میں جہمیہ، ایک گمراہ فرقے، کے تعزیرا قتل کو جائز قرار دیا ہے۔

قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے والے کے لیے درد ناک عذاب کا اعلان کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔ تو یہ عذاب ان کو آخرت میں بھی ملے گا، جہنم کی صورت میں۔ اور دنیا میں بھی ملے گا، حد کی سزا کی صورت میں۔ قرآن مجید میں ایک مقام پر زنا کی حد کو بھی عذاب قرار دیا گیا ہے تو گویا عذاب کا لفظ حد کے معنی میں بھی قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ۔

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے قرآن مجید کی اس حد کی وضاحت میں اپنی سنت یہ جاری فرمائی ہے کہ کہ توہین رسالت کے مجرم کی سزا قتل ہے، چاہے وہ غیر مسلم اور معاہد ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ یہودی سردار کعب بن اشرف کے بارے صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ ہیں: ((مَنْ لِكَعْبِ بِنِ الأَشْرَفِ، فَإِنَّهُ قَدْ آذَى الله َ وَرَسُولَهُ؟)) فقام محمد بن مَسْلمة فقال: أنا يا رسول الله، أتحبُ أنَّ أقتله؟ قال: ((نعم))۔ ترجمہ: کون ہے جو کعب بن اشرف کا کام تمام کر دے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔ تو محمد بن مسلمہ صحابی نے کہا کہ میں ایسا کروں گیا۔ اور کیا آپ یہ پسند ہے کہ میں اسے قتل کر دوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ہاں۔

اسی طرح سن ابو داؤد کی روایت میں ایک یہودی عورت رسول اللہ صی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتی تھی تو ایک صحابی نے اس کو قتل کر دیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو آپ نے اس یہودی عورت کے خون کو رائیگاں قرار دیا یعنی یہ کہا کہ اس کا قصاص اور دیت نہیں ہو گی۔ اسی طرح سن النسائی کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابو بکر کو گالی دی تو ایک صحابی نے کہا کہ میں اسے قتل کرتا ہوں تو حضرت ابو بکر نے کہا کہ یہ حکم صرف رسول اللہ صی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لیے تھا۔ اور اب آپ کے بعد کسی کے لیے نہیں ہے۔ تو ابو بکر سے بڑھ کر کون رسالت کےمقام سے واقف ہو گا؟

اسی طرح صحیح بخاری کی روایت میں ابن خطل فتح مکہ کے موقف ہر خانہ کعبہ کے پردے پکڑے ہوئے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہجو کرتا تھا۔ جب آپ کو بتلایا گیا تو آپ نے کہا کہ اسے اسی حال میں قتل کر دو۔ بعض لوگ اس روایت کی تاویل کرتے ہیں کہ اس کو مرتد ہونے کے جرم میں قتل کیا گیا حالانکہ مرتد کی معافی اور توبہ تو قابل قبول ہے بلکہ اس سے پہلے توبہ کروائی جائے گی اور پھر قتل کیا جائے گا۔ اور یہ بیت اللہ کے پردے پکڑے ہوئے ہے، اس سے بڑھ کا معافی اور توبہ کا اظہار کیا ہو گا اور بغیر اس کی توبہ قبول کیے اس کو ارتداد پر قتل کرنا کیونکر جائز ہو گا؟

اسی طرح یہ کہنا کہ اس نے ایک جان کو قتل کیا تھا اس کے بدلے اس کو قتل کیا گیا تو یہ بھی کمزور تاویل ہے۔ کہ جس کو اس نے قتل کیا تھا، ان کا تعلق بنو خزاعہ سے تھا لہذا قانون قصاص ودیت کے مطابق پہلے مقتول کے ورثاء سے قصاص کا پوچھا جاتا۔ اور اگر ورثاء معاف کر دیتے یا دیت لے لیتے تو اس کی معافی اور دیت بنتی تھی کہ جس کا موقع اس کو نہ دیا گیا۔ پھر مغازی اور سیرت کی تمام کتب میں یہ موجود ہے کہ رسول اللہ صی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ابن خطل کی ان دو لونڈیوں کے قتل کا بھی حکم بھی دیا تھا کہ جو آپ کی شان میں ہجو کہتی تھیں اور ان میں سےا یک قتل بھی کر دی گئی۔

بھئی مخالفین کے پاس صرف یہ دلیل باقی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین تھے لہذا اس کا تقاضا ہے کہ توہین رسالت کے سارے مجرموں کو صرف دعوت اور پیار محبت سے سمجھا دیا کریں۔ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین تھے لیکن آزادی اظہار رائے یعنی فریڈم آف ایکسپریشن کے جس دور میں آپ رہ رہے ہیں، یہاں آپ نے اگر توہین رسالت کے جرم کے مقابلے میں محض دعوت اور پیار محبت کے اسلوب پر اکتفا کر لیا تو ہر دوسری گلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے لبرل پیدا نہ ہوں گے کیا۔

تو باپ کی عزت کروانا اگر کوئی نیکی کا کام ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کروانا بھی تو ایمانی تقاضا ہے بھئی۔ کیا آپ اپنے ارد گرد کثرت سے ابو بکر صدیق کو گالی دینے والے نہیں دیکھ رہے؟ انہیں ذرا دعوت اور پیار محبت سے سمجھا کر دیکھ لیں تو آپ کو لگ پتہ جائے گا کہ بگڑی ہوئی انسانی نفسیات اور فسادی اخلاقیات پیار محبت کی بجائے کسی اور زبان میں سمجھنے کی عادی ہے۔ اگر سب مسئلے پیار محبت اور دعوت ہی سے حل ہو جاتے تو کسی ریاست کو چلانے کے لیے کوئی قانون ہی کیوں بنایا جاتا۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...