ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

کیا سگریٹ نوشی حرام ہے؟

سگریٹ نوشی کا شرعی حکم کیا ہے، اس بارے اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک جائز ہے، بعض کے نزدیک مکروہ اور بعض اسے حرام کہتے ہیں۔ برصغیر کے علماء عام طور جائز جبکہ عرب علماء اکثر طور حرام کہتے ہیں۔ شیخ قرضاوی کے مطابق علماء میں اس اختلاف کی وجہ تمباکو کے نقصان دہ اور ضرر رساں ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف ہے۔ جو علماء اسے نقصان دہ اور ضرر رساں سمجھتے ہیں تو وہ تمباکو نوشی کی مکروہ یا حرام ہونے کے قائل ہیں اور جو علماء اسے نقصان دہ اور ضرر رساں نہیں سمجھتے تو وہ اس کے جائز اور مباح ہونے کے قائل ہیں۔

شیخ قرضاوی کے مطابق یہ علماء کا میدان ہی نہیں ہے کہ وہ یہ طے کرنے بیٹھ جائیں کہ تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے مضر ہے یا نہیں؟ یہ اطباء کا میدان ہے لہذا اس بارے فیصلہ وہی کریں گے۔ اور اطباء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ اور ضرر رساں ہے۔ ہمارے ہاں پاکستان میں بھی سگریٹ کی ہر ڈبی پر منسٹری آف ہیلتھ کی طرف سے لازما یہ لکھوایا جاتا ہے کہ تمباکو نوشی کینسر اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ اور نہ صرف یہ عبارت لکھوائی جاتی ہے بلکہ اس کے ساتھ تصاویر بھی شائع کی جاتی ہیں تا کہ اس کا نقصان دہ اور ضرر رساں ہونا ہر اس شخص تک پہنچ جائے جو تمباکو نوشی کرتا ہے۔

امریکہ کے سرکاری ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ (CDC) کے اعداد وشمار کے مطابق ایک ایورج اسموکر اپنی لائف سے 10 سال پہلے فوت ہو جاتا ہے۔ اور صرف امریکہ میں ایک سال میں 4 لاکھ اور 80 ہزار افراد سگریٹ نوشی سے مر جاتے ہیں یعنی روزانہ 1300 افراد اور ہر پانچ میں سے ایک تمباکو نوشی سے مرتا ہے۔ اسی طرح دنیا میں ایک سال میں تمباکو نوشی سے تقریبا 60 لاکھ افراد کی موت واقع ہوتی ہے جو کہ 2030ء میں 80 لاکھ ہو جائے گی۔ اسی طرح 2016ء میں صرف امریکہ میں سگریٹ کی کمپنیوں نے سگریٹ نوشی کے اشتہارات پر تقریبا 10 کھرب روپے خرچ کیا اور امریکہ میں ایک سال کی اسموکنگ کاسٹ 300 کھرب روپے بنتی ہے۔

معروف مصری فقیہ شیخ قرضاوی کا کہنا یہ ہے کہ تمباکو نوشی کے مباح یا جائز ہونے کا قول تو بالکل لغو اور بے کار ہے البتہ اس کے مکروہ یا حرام ہونے کے اقوال میں بحث ہو سکتی ہے کہ کون سا قول راجح (preferred) ہے۔ اور شیخ قرضاوی کے نزدیک تمباکو نوشی حرام ہے کیونکہ علماء کا اس بات ہر اتفاق ہے کہ جو چیز انسان کے لیے ضرر رساں ہے، وہ حرام ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ "لاضرر ولاضرار” یعنی نہ تو اپنے آپ کو اور نہ کسی کو غیر ارادی (un-intentionally) نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی ارادی طور (intentionally) نقصان پہنچاؤ۔ اس روایت کا یہ معنی معروف سعودی عالم دین شیخ صالح العثیمین نے بیان کیا ہے۔

مفتی اعظم سعودی عرب شیخ بن باز کا کہنا یہ ہے کہ قرآن مجید میں اپنے آپ کو نقصان پہنچانے اور اپنی جان لینے سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: "وَلا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ” کہ اپنے آپ کو قتل مت کرو۔ اور ارشاد باری تعالی ہے: "وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ” کہ کوئی ایسا کام نہ کرو کہ جس سے تمہاری جان کو خطرہ لاحق ہو لہذا سگریٹ نوشی حرام ہے کہ اس میں آہستہ آہستہ جان جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ تو سگریٹ نوشی کی حرمت کی ایک دلیل تو ضرر نفس یعنی اپنی جان کو نقصان پہنچانا ہے جو کہ دین میں حرام ہے۔ اور اس کی حرمت کی دوسری دلیل ان علماء نے یہ بیان کی ہے کہ تمباکو، خبائث میں سے ہے اور خبائث، اسلام میں حرام ہیں۔

معروف شامی فقیہ شیخ صالح المنجد کا کہنا یہ ہے کہ ارشاد باری تعالی ہے: "وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ” کہ ہمارے دین میں طیب حلال ہے اور خبیث حرام ہے۔ اور طیب اس کو کہتے ہیں جو انسان اور انسانی جسم کے لیے مفید اور نفع بخش ہو۔ اور خبیث اس کو کہتے ہیں جو انسان اور انسانی صحت کے لیے نقصان دہ اور ضرر رساں ہو۔ اب تمباکو کو کون "شجرہ طیبہ” کہے گا؟ تو تمباکو خبیث جڑی بوٹی ہے کہ یہ انسانی جسم کے لیے ضرر رساں ہے لہذا حرام ہے۔

اور تمباکو نوشی کی حرمت کی تیسری دلیل ان علماء کے ہاں اسراف اور تبذیر ہے کہ ڈاکٹر عبد اللہ الفقیہ لکھتے ہیں کہ ارشاد باری تعالی ہے: "ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين” کہ فضول خرچی نہ کرو کہ اللہ عزوجل فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور تمباکو نوشی کرنے والا اپنے پیسے کو آگ لگاتا ہے کہ 60 روپے کی کیپسٹن کی ایک ڈبی روازنہ پینے والا سالانہ 22 ہزار اور 150 روپے کی گولڈ لیف کی ڈبی پینے والا سالانہ 54 ہزار روپے جلا دیتا ہے کہ جن سے اس کے بیوی بچوں کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکتی تھیں۔ ہماری نظر میں تمباکو نوشی ان تین وجوہات کہ تمباکو انسانی صحت کے لیے ضرر رساں ہے، تمباکو کا پودا خبائث میں سے ہے اور تمباکو نوشی فضول خرچی ہے، کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...