ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

جزباتیت سے بھر پور ہماری ناکام سفارتکاری

ہمارے ممدوح و مقبول اور عالمِ اسلام کے ممتاز ترک لیڈر طیب اردگان کے نئے سفارتی کارنامے پر سوشل میڈیا کے لوگ یوں بغلیں بجا رہے ہیں جیسے اکیسویں صدی کی صلیبی جنگ میں کوئی بہت بڑی کامیابی مل گئی ہو . اردگان کو پوپ فرانسس سے آفیشل ملاقات کیلیے جس کمرے میں لیجایا گیا وہاں ایک عام آفس ٹیبل رکھی تھی جس کے ایک طرف ایگزیکٹو سیٹ تو دوسری طرف مہمان کیلیے دوسری چھوٹی کرسی رکھی تھی ، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے . شاذونادر ہی آپ آفس ٹیبل کے دونوں اطراف ایک جیسی کرسیاں دیکھیں گے . مگر اردگان کو نجانے اس میں کیا قباحت نظر آئی کہ ایک جیسی سیٹ کا مطالبہ کر دیا . صاف ظاہر ہے میزبانوں کو ویسی ہی دوسری کرسی کہیں دوسرے آفس سے لانی پڑی اور تب ہی اردگان کہیں جا کر بیٹھے . تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیبل کرسیوں کا سیٹ کتنا عجیب لگ رہا ہے .
میں نہیں سمجھتا کہ اس میں میزبانوں کا ہتک کا کوئی ارادہ رہا ہو . میرا خیال ہے پوپ نے ملاقات کیلیے اپنے زاتی آفس کا انتخاب ملاقات کو زاتی پیرائے میں دوستانہ ماحول پیدا کرنے کیلیے کیا ہو گا . ورنہ ملاقات کا خصوصی آفیشل کمرہ جہاں ایک چھوٹی سی میز کے دونوں جانب ایک جیسی نشستیں لگی ہوتی ہیں . وہاں کیمرے کے سامنے میزبان اور مہمان ملاقات کی غرض و غایت پر کچھ بولتے ہیں اور پھر مزید گفت و شنید کیلیے صوفوں پر نشستند ہوا جاتا ہے .
سفارتکاری اور عالمی تعلقات کے تناظر میں میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ دو نشستوں کے درمیان تفاوت سے دو فریقوں کے مابین برابری کی حیثیت میں آخر کیا فرق آ سکتا ہے . یاد رہے کہ اس موقع پر اردگان کا بیان خوب وائرل ہوا : "ہم دنیا سے برابری کی حیثیت میں بات کرتے ہیں” ۔
وقت وقت کی بات ہے . تاریخ کے جھروکوں سے دیکھتا ہوں تو مجھے کتنے ہی یورپ کے عیسائی حکمران سندِ حکمرانی کے حصول کیلیے اسی ترکی کے عظیم حکمران ، جسے سلطان اور خلیفۃ المسلمین کہا جاتا تھا ، کی قدم بوسی کرتے نظر آتے ہیں .
سلطان صلاح الدین کا مدمقابل مسیحی بادشاہ جب میدان جنگ میں نظر نہ آیا تو اس کے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ شدید علیل ہے . سلطان بے شمار خطرات کے باوجود اپنے شاہی حکیم کو ہمراہ لیکر دشمن کے علاج کروانے کی غرض سے اس کے خیمے میں جا پہنچا . اس واقعہ پر یورپ میں کئی فلمیں بن چکی ہیں . یورپی زعماء و عوام آج تک اس بات کی قدر کرتے ہیں اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی تکریم کرتے ہیں اور اسے انتہائی اچھے الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں . گویا اچھا بویا جائے تو اچھا کاٹنے کی امید کی جا سکتی ہے .
خاص طور پر جب آپ پوپ کے پاس ایک خاص گفتگو کیلیئے اور اسکو اپنے موقف کا ہمنوا بنانے کے مشن پر آئے تھے تو ضد پر مبنی ایسا انداز نہیں اپنانا چاہیے تھا جس سے مخاصمت کو ہوا ملے . یاد رہے امریکی ٹرمپ کے متنازعہ بیانیہ کے مد مقابل ترکی کے صدر یروشلم کو فلسطین کے دارالخلافہ قرار دینے کے ایشو پر پوپ سے مزاکرات کرنے آئے تھے . اس عظیم مشن کی کامیابی کیلیے نپے تلے انداز کی جس پائے اور انتہا کی سفارتکاری کی ضرورت ہے ، اس قضیے کیبعد میرا خیال ہے کہ شروعات میں ہی ایسا کچھ ہو گیا جو ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا .
پوپ پوری کیتھولک دنیا کا مذہبی و غیر سیاسی پیشوا ہے . فلسطین کے ایشو پر امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک کے برعکس ہمیشہ مسلم دنیا کا حلیف رہا ہے . اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کیلیے "علامتی بڑے ” کے طور پر ممتاز ہے . اور عمر میں بڑا ہونے کے سبب بھی واجب الاحترام ہے . بچوں جیسی ضد نے نان ایشو کو خوامخواہ کیا سے کیا بنا دیا ہے جو کہ قابل رشک یقیناً نہیں ہے . یقین کریں یاسر عرفات ہوتا تو ایسا ہرگز نہ کرتا . کیونکہ پوپ کوئی بھی ہو ، ویٹیکن کی پالیسی مستقل طور پر اسرائیل مخالف اور فلسطین نواز رہی ہے . اور فلسطینیوں سے بہتر اس بات کو کون جان سکتا ہے ، جن کا فلسطین کی آزادی کے حوالے سے ویٹیکن کیساتھ مشترکہ موقف رہا ہے .
انٹرنیشنل ریلیشنز اور سفارتکاری بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہے . ہمارے جزباتی لیڈر چھوٹے چھوٹے نان ایشوز سے نمبر ٹانک کر سادہ عوام کو خوش کر دیتے ہیں جو عرصہ دراز تک اپنے لیڈر کی نام نہاد جرات و بہادری کے ڈھول پیٹتے رہتے ہیں . جزبات کے رو میں بہہ کر کیئے گئے فیصلوں اور بلنڈرز سے بعدازاں ملک و قوم ہی متاثر ہوتے ہیں اور عواقب بھگتتے ہیں .
پولینڈ میں بھٹو کا قرارداد کے صفحات چاک کرتے ہوئے ایک اہم اور فیصلہ کن میٹنگ سے اٹھ کھڑے ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے . جس کے نتیجے میں مشرقی بازو کھونے جیسے ناقابل تلافی نقصان کے باوجود بھٹو کے اس بلنڈر کو پاکستانی عوام آج تک کمال تفاخر سے یاد کرتے ہیں . حالانکہ سفارتکاری برے سے برے حالات میں بھی بساط الٹ کر جیت اپنے ملک کے نام کر دینے کا نام ہے . ہمیں بھٹو کے اس جزباتی عمل سے کیا ملا ؟ جس نے بالواسطہ یا بلا واسطہ پوری حد تک تقسیم ملک کے ایجنڈے پر کام کیا .
ایسا ہی کچھ سفارتی مزاق اس وقت بھی ہوا جب سعودی شاہ کی وفات پر امریکی صدر اپنے بھارت کے دورے کو مختصر کر کے تعزیت کیلیے سعودی عرب آئے تھے . وہ ابھی ائیر پورٹ پہنچے ہی تھے کہ عصر کی آذان کی آواز آئی . حالانکہ ابھی نماز میں وقت تھا مگر استقبال کیلیے آئے نئے سعودی شاہ دیگر عمائدین حکومت کے ہمراہ نماز کیلیے ایسے رخصت ہوئے کہ مہمان صدر اور انکی اہلیہ کو اکیلے ہی ائیر پورٹ پر چھوڑ دیا . یوں مہمانوں کی بیجا سبکی کی گئی جسے نہ صرف دنیا بھر کے مسلمان بھائیوں نے خوب مزے لے لے کر مزاق بنایا اور سعودی شاہ کے اس غیر سفارتکانہ فعل کی خوب واہ واہ کی گئی بلکہ دیگر ممالک کے میڈیا میں بھی پروگرامز روک کر بار بار امریکی صدر کی بیچارگی دکھائی گئی . یہ سفارتی بے ادبی تو تھی ہی مگر بمطابق اسلامی تعلیمات بھی مہمان کے شایانِ شان ہرگز نہیں تھا ، اسلام اتنا تنگ نظر بالکل نہیں جس طرح اس موقع پر پیش کیا گیا . اس جسارت کا خمیازہ سعودی حکومت نے یوں بھگتا کہ جاتے جاتے اوبامہ سعودیہ کو ناراض کر کے ایران کیساتھ طویل عرصہ سے حل طلب معاملات کو یکطرفہ طور پر حل کرنے کی غرض سے ایران سے معاہدہ کر گیا جسکو ریورس کرنے کیلیے ٹرمپ کیساتھ شیطانی ناچ کے علاوہ نامعلوم اسکی کیا کیا خوشامد کرنا پڑی . اسکی فیملی کو عالمی تاریخ کے مہنگے ترین تحائف دیئے گئے اور امریکہ کی ایسی ایسی شرائط پوری کی گئیں جن کو ماننا تو درکنار انکا سوچنا بھی سعودیہ کیلیے صرف تھوڑا عرصہ پہلے تک محال تھا .
انٹرنیشنل ریلیشنز اور ڈپلومیسی دراصل بصیرت ، وسیع القلبی تحمل و بردباری کے متقاضی ہوتے ہیں . ان لوازمات کے بغیر سپر پاور امریکہ کا صدر ٹرمپ بھی تمام عالمی حلقوں میں انڈپلومیٹک اور نا معقول سمجھا جاتا ہے . کم ہی کسی ملک میں اسے پسند کیا جاتا ہے . روایتی دوست ممالک سے اسکے تعلقات سردمہری کا شکار ہیں . عرصہ دراز سے متوقع اسکا برطانیہ کا دورہ بھی آخرکار منسوخ کرنا پڑا کیونکہ والہانہ استقبال کی بجائے جگہ جگہ مظاہرے یا دوسرے معنوں میں جوتے پڑنے کا احتمال تھا . ممالک کے مابین دوستی ہو یا دشمنی ، ایک معقول زبان اور مناسب سفارتکارانہ رویے ہر حال میں ملحوظ خاطر ہونے چاہیئں . برصغیر کے دورے پر آئے ہوئے کئی سربراہان مملکت جب انڈیا جاتے ہیں تو بھارتیوں کو خوش کرنے کیلیے کچھ بولتے ہیں مگر اگلے ہی روز پاکستان آ کر ہمیں مطمئن کرنے کیلیے کچھ اور بیان دیتے ہیں . یہ ہے سفارتکاری یا ڈپلومیسی .
امریکہ عراق تنازعے کی شروعات میں عراق کے صدر صدام نے فرانس کے صدر متراں کو "بش کا کتا” قرار دیا تھا ، پھر کیا تھا پوری دنیا کے چینلز کو جیسے "کچھ خاص” مل گیا جس کی بازگشت لمبے عرصے تک دنیا بھر میں سنی جاتی رہی . ایک اسٹیٹس مین کے دوسرے ملک کے سربراہ مملکت کیلیے اس طرح کے ریمارکس سفارتی حلقوں میں انتہائی ناپسند کیئے جاتے ہیں . صدام کا جو حشر ہوا سب کے سامنے ہے . کوئی بھی ملک یا سربراہ مملکت اسکی مدد کو نہیں آیا . ایسا ہی کچھ سفید ہاتھی کہنے والے کا ہوا . اپنے ہی ملک کی فوج سے پھانسی پا گیا مگر مرنا چالیس سال بعد بھی نصیب نہیں ہوا .
ایران سپین سفارتی مخمصہ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب ایرانی صدر اسٹیٹ وزٹ پر اسپین آنے والے تھے . شاہِ ہسپانیہ کیجانب سے ایرانی صدر کے اعزاز میں جو اسٹیٹ ڈنر دیا جانا تھا ، اس کے مینو میں وائن بھی شامل تھی . اسٹیٹ ڈنر میں ایرانی صدر اور انکے وفد کے علاوہ شاہی خاندان کے افراد ، یورپی و دیگر ممالک کے سفارتکار اور بے شمار سرکاری لوگ بھی مدعو ہونا تھے . ایران نے مطالبہ کر دیا کہ سٹیٹ ڈنر کے مینو میں وائن کو شامل نہ کیا جائے . اسپینیشوں کا موقف تھا کہ وائن پینا اور پینے والے مہمانوں کو پیش کرنا ہماری پرانی روایت ہے . جسے نہیں پینا نہ پئے مگر چیف گیسٹ کو دیگر معزز مہمانان گرامی کو روکنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں .
اس وائن ایشو پر اچھا خاصہ سفارتی تنازعہ بن رہا تھا . عین ممکن تھا کہ اسٹیٹ ڈنر ہی منسوخ کر دیا جاتا یا دورہ ہی سرے سے کینسل کر دیا جاتا جو کہ ایران کی بڑی ناکامی اور انتہائی سبکی کا باعث بنتا .
دنیا بھر کے کسی بھی فائیو سٹار ہوٹل کی ایک ٹیبل پر وائن کے شوقین اپنے جام ٹکرا رہے ہوتے ہیں تو کہیں قریب ہی باریش مسلمان اپنی خواتینِ خانہ کیساتھ اپنے حلال مینو کو انجوائے کر رہے ہوتے ہیں . ھال کی کسی میز پر موجود وائن کو کوئی ہٹوا نہیں سکتا . ہاں البتہ باہمی عزت و احترام کا رشتہ استوار کیا ہو تو آپ کا دوست آپ کے ہوتے ہوئے احتراماً خود سے ہی نان الکوحل ڈرنک کا آرڈر کر سکتا ہے . کبھی بار جانا ہوتا تو غیر مسلم دوست اپنی بیئر منگوا لیتا تو میں اپنی کوک . مگر کئی بار ہوا کہ کسی غیر مسلم نے میرے ساتھ ٹیبل پر شراب کا آرڈر نہیں دیا کہ آپ مسلم ہو ، نہیں پیتے ، میں آپکی اور آپکے مزہب کی عزت کرتا ہوں اور آپکے سامنے شراب نہیں پی سکتا . یہ عزت حاصل کرنے کیلیے دوسروں کی عزت اور ترجیحات کا احترام کرنا پڑتا ہے . عزت زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی . یہ بات ہمارے اسٹیٹس مین (statesmen) اور سفارتکار حضرات کو بخوبی ذہن نشین کرنا ہو گی .
شراب پی کر غل غپاڑہ کرنے اور اپنی گرل فرینڈ پر جسمانی تشدد کے الزام میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور انتہائی معروف و کہنہ مشق سفارتکار کو امریکہ میں جیل کی ہوا کھانا پڑی . اس طرح ایک طرف تو ہماری سفارتکاری پر ایک بڑا سا سوالیہ نشان لگا اور دوسری طرف پاکستانیوں کو دنیا بھر میں انتہائی تزلیل کا سامنا کرنا پڑا .
شمالی کوریا کے صدر کے امریکی صدر کیساتھ حالیہ زبانی ٹاکرے پر اگر بات نہ ہو تو آج کے اس موضوع کیساتھ تشفی نہ ہوتی . اس قسم کی سفارتکارانہ بدکلامی کا یہ اکلوتا واقعہ تھا جس میں "جیسے کو تیسے” والا معاملہ ہو گیا . دونوں طرف کی لفاظی گولہ باری نے دلچسپ سی مگر خطرناک صورتحال پیدا کر دی تھی . میرا یقین ہے ٹرمپ کی جگہ اوبامہ ہوتا تو ڈپلومیٹک کرائسز کے باوجود دو سربراہان مملکت کے درمیان اتنا تناؤ پیدا نہ ہوتا . اور اگر شمالی کوریا کا صدر اس قسم کی بد زبانی بش دور میں کرتا تو جنگ یقینی تھی . اگر ٹرمپ شمالی کوریا کیخلاف کوئی جارحیت کرتا بھی تو اسے اپنے جارحانہ و متنازعہ رویے کیوجہ سے بش اور اوبامہ کو
ملنے جیسی یورپی و عالمی تائید حاصل نہ ہوتی .
مختاراں مائی کیساتھ ظلم کی داستان جب دنیا بھر کے پریس اور چینلز کی مسلسل زینت بن رہی تھی ، واشنگٹن پوسٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مشرف نے ایسا متنازعہ اور شرمناک بیان دیا جو ریاست کے بلند ترین منصبِ صدارت اور فوج کے سپہ سالار جیسے عہدے کے قد و قامت سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتا تھا . اپنی حکومت کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلیے اپنے مبینہ بیان میں مشرف نے کہا تھا کہ "جنسی زیادتی کا واویلا” صرف کینیڈا کے ویزے کے حصول کیلیے ہے . مشرف کے اس بیان پر اندرون ملک اور دنیا بھر کے عالمی راہنماؤں کی طرف سے شدید غصے کا اظہار اور انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی . ایمنسٹی انٹرنیشنل ، خواتین این جی اوز اور پاکستان بھر میں احتجاج کرنے والی دیگر خواتین نے مشرف سے معافی کا مطالبہ کیا تھا . عقلِ کل اس دانشور سربراہِ مملکت کی کتاب بھی متنازعہ امور اور بلنڈرز سے بھری ہے .
آئندہ دور میں جنگیں میدان جنگ میں ہرگز نہیں جیتی جائیں گی بلکہ انکے فیصلے گفتگو کی میز پر ہونگے . بہترین سفارتکاری کے جوہر دکھا کر جیت اپنے نام کی جا سکے گی . عامیانہ گفتگو کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں ہو گی . کارگل جنگ اس بات کی گواہ ہے .
مشرف نے بھارت کی گردن تو دبوچ لی تھی مگر وزیر اعظم اور کابینہ کو کسی قسم کے فیصلے میں شامل کیا گیا اور نہ آگاہ کرنا مناسب سمجھا گیا . نتیجتاً لاعلم سیاسی قیادت اور سفارتکاری کی ذمہ دار وزارت خارجہ پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کر سکے . قریب تھا کہ کچھ حاصل کرنے کی بجائے پاکستان کو کچھ کھونا پڑ جاتا ، مشرف نے شریف کو کلنٹن کے پاس جانے کی درخواست کی . اور یوں انہوں نے ڈپلومیٹک کرائسز سے پاکستان کو نکالا .

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...