ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

جمال خاشگی یا پیٹرو ڈالر

قتل تو قتل ہے ، اس کی تائید کیسے کی جا سکتی ہے لیکن جمال خا شگی کے قتل پر مغرب کے رد عمل کو اگر کوئی انسان دوستی اور حقوق انسانی کا استعارہ بنا کرپیش کرنا چاہے تو کم از کم میں اس سے اتفاق نہیں کر سکتا ۔ مغربی دنیا کی تکلیف کچھ اور ہے ۔ یہ ان کی حکمت عملی ہے کہ وہ اس لڑائی کو ایک مقتول کے خوں بہا کے عنوان سے لڑ رہے ہیں ۔ یہ ساری مہم مفادات کے حصول کے لیے اٹھائی گئی ہے ۔ حقوق انسانی اور اعلی انسانی قدروں کا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

معاملہ کچھ اور ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ پیٹرو ڈالر دھیرے دھیرے اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ عالمی منصوبہ بندی سے جو نظام وضع کیا گیا تھا اس میں ایک اونس سونے کی قیمت پینتیس ڈالر تھی ۔ امریکہ نے اس نظام کو چند ہی سال میں خود ہی پامال کر دیا ۔ جب سے چین نے امریکہ کی طرف سے بھیجی گئی سونے کی بارز کو جعلی ثابت کیا ہے تب سے یہ بات وضح ہو چکی ہے کہ اس کے سونے کے ذخائر اب مشکوک ہیں ۔ 1953 کے بعد سے اب تک امریکہ نے اپنے فیڈرل گولڈ ریزرو کا آڈٹ تک نہیں کروایا ۔ اراکین کانگریس کے مطالبے کے باوجود انہیں دورہ تک نہیں کرنے دیا گیا ۔ نصف صدی ہونے کو ہے جب امریکہ نے کہا کہ وہ عارضی طور پر ڈالر کو سونے سے الگ کر رہا ہے اور کچھ عرصے کے لیے ڈالر کی مالیت کا تعین سونے سے نہیں ہو گا ۔ یہ ’’ عارضی‘‘ انتظام آج تک قائم ہے جو اس بات کا اعلان ہے کہ ڈالر کی شان و شوکت مصنوعی ہے۔ ( اس کی تفصیل میں چند ماہ قبل شائع ہونے والے کالم پیٹرو یوآن میں دے چکا ہوں)

 

اس شان و شوکت کو سب سے بڑا سہارا سعودی عرب نے دیے رکھا ۔ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان یہ طے پایا کہ جس ملک نے بھی سعودی عرب سے پٹرولیم مصنوعات خریدنا ہیں وہ صرف ڈالر میں خرید سکے گا ۔ سعودی عرب امریکی ڈالر کے علاوہ کسی اور کرنسی میں تیل فروخت نہیں کرتا ۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ یہ معاہدہ شاہ فیصل کے دور میں ہوا۔ تیل سعودی عرب کا ۔ خریدنے والا کوئی ایشیائی ملک لیکن اس بندو بست کے تحت وہ ایشیائی ملک مجبور ہے کہ پہلے امریکی ڈالر لے اور پھر اسے تیل ملے گا ۔ اس بند و بست نے ڈالر کی اجارہ داری قائم کرنے میں بہت بنیادی کردار ادا کیا۔

اب یہ بندو بست خطرے میں ہے۔ کیوں خطرے میں ہے ، یہ سمجھ لیجیے۔ اس کی پہلی وجہ چین ہے ۔ چین اور سعودی عرب میں طے ہو چکا ہے کہ چین امریکی ڈالر کا محتاج نہیں بلکہ سعودی عرب اسے اس کی اپنی کرنسی یوآن میں بھی پٹرول بیچے گا ۔ چین دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے جو ہر روز 70 لاکھ بیرل پٹرول خریدتا ہے۔ سعودی عرب اسے نظر انداز نہیں کر سکتاتھا ۔ اب جب معاملہ یوآن تک پہنچے گا تو ہو سکتا ہے ون بیلٹ ون روڈ سے منسلک کچھ اور ملک بھی ڈالر کی بجائے یوآن میں پٹرول خریدنا پسند کر یں ۔ کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں ڈالر پر کیا بیتے گی ؟ یاد رہے کہ دالر کو جھٹکا لگے گا تو امریکی سامراج کی چولیں ہل جائیں گی۔

ڈالر کو چیلنج کرنا کوئی معمولی کام نہیں ۔ یہی کام صدام حسین نے کیا اور ان کا انجام سب کے سامنے ہے ۔ صدام کا جرم کیا تھا ؟ یہی کہ انہوں نے ڈالر کی بجائے یورو میں بھی پٹرول بیچنے کا اعلان کیا تھا ۔ ڈالر کے ساتھ اس گستاخی کی سزا انہیں ایسی دی گئی کہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ قذافی کا جرم بھی یہی تھا ۔ انہوں نے افریقی ممالک کی ایک الگ کرنسی پر کام شروع کیا اور کیا کہ جب ہم اس کرنسی میں تیل بیچیں گے تو ہماری کرنسی معتبر ہو جائے گا ۔ ان کا انجام بھی آپ کے سامنے ہے۔ اب سعووی عرب چین کے ساتھ مل کر یہی کام کرنے جا رہا ہے ۔ امریکہ اسے اتنی آسانی سے کیسے برداشت کر لے گا؟

 

صدام اور قذافی کے انجام کے باوجود سعودی عرب پیٹرو ڈالر کی اجارہ داری کو چین کے ساتھ مل کر چیلنج کرنے جا رہا ہے تو کیا یہ محض اتفاق ہے؟ امریکہ کی ناراضی کے خطرے کے باوجود سعودی عرب سی پیک میں کسی نہ کسی شکل میں شمولیت کا خواہاں ہے تو کیا یہ محض اتفاق ہے؟ امریکہ آئی ایم ایف کو پاکستان کو قرض دینے سے روکتا ہے اور امریکی اشارے پر آئی ایم ایف قرض سے پہلے سی پیک معاہدوں کی تفصیلات مانگ لیتا ہے تو کیا یہ محض اتفاق ہے؟ اور آئی ایم ایف کے دباؤ سے پاکستان کو نکالنے کے لیے سعودی عرب پاکستان کو بھاری رقم دیتا ہے تو کیا خیال یہ بھی محض اتفاق ہے؟ ایک جہاں نو پیدا ہو رہا ہے ، دھیرے دھیرے ۔ اسے سمجھنا ہو تو سعودی عرب کے ویژن 2030 کا تسلی سے مطالعہ کیجیے۔

سعودی عرب سمٹ رہا ہے یا یوں کہیے سنبھل رہا ہے ۔ کہاں وہ وقت کہ سعودی عرب اپنے دفاعی بجٹ کا غالب ترین حصہ امریکی افواج کے اخراجات پر صرف کرتا تھا یا امریکی اسلحے کی خریداری پر اور کہاں یہ وقت کہ دونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر 110 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں کی بات ابھی تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکی ۔ ٹرمپ تو بہت خوش ہوئے کہ سعودی عرب سے 110 ارب ڈالر لے کر وہ ملک میں معاشی انقلاب لے آئیں گے لیکن سعودی عرب نے ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ سے ایک ڈالر کی چیز نہیں خریدی ، بس خواہش کے اظہار تک معاملے کو روکا ہوا ہے کہ بالکل ہم آپ سے 110 ارب ڈالر کے منصوبے پروان چڑھائیں گے ۔ یہ منصوبے جو ابھی تک سعودی عرب نے لٹکا کے رکھے ہیں امریکہ کے لیے کتنے اہم ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کیا آپ جمال کاشگی کے قتل پر سزا کے طور پر سعودی عرب کو اسلحہ بیچنا بند کر دیں گے تو ان کا کہنا یہ تو امریکہ کو سزا دینے والی بات ہو گی۔

یاد رہے کہ اس وقت جمال خاشگی کے قتل پر سعودی عرب کے خلاف جو سینیٹر سب سے زیادہ بول رہے ہیں ان کا نام لنزے گراہم ہے اور امریکہ کی بڑی اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے منظور نظر ہیں ۔ ان صاحب نے اپریل 2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ سے بار بار مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکی فضائیہ کے لیے لاک ہیڈ مارٹن کے بنائے طیارے خریدیں ۔ لاک ہیڈ مارٹن نے ان کی انتکابی مہم مین چندے کے طور پر غیر معمولی رقم بھی دی تھی ۔ یعنی غصہ یہ نہیں کہ جمال خاشگی کا قتل کیوں ہوا ؟ غصہ یہ ہے کہ سعودی عرب امریکہ پر اپنی دولت لٹانے میں اب متامل کیوں ہے۔ وہ پیٹرو ڈالر کے لیے خطرہ کیوں بن رہا ہے ؟ وہ چین کے قریب کیوں جا رہا ہے ؟ یہ مفادات کی جنگ ہے جو انسانی جان کی حرمت کے نام پر لڑی جا رہی ہے۔ تو کیا رچرڈ ریویز نے درست کہا تھا : ہم امریکی اپنی رہنمائی کے لیے واہیات باتیں علی الاعلان کرتے ہیں۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...