ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

بھارتی فوج میں خواتین کی بطور سیکس ورکر بھرتی کا انکشاف

بھارتی آرمی چیف دلبیر سنگھ سہاگ پاکستان پر دھمکیوں کی برسات کریں تو لگتا ہے اب برسے کے تب برسے لیکن جب ان کی فوج کے اندرونی مسائل اور حالت زار کی بات ہو تو سکھ چین کے اس پنگھوڑے میں سو رہے ہوتے ہیں جہاں انھیں اپنی خبر بھی نہیں آتی۔ مسئلہ کشمیر تلوار کی نوک پر ہے لیکن تلورا چلانے والے ہاتھ اس قابل ہی نہیں کے وار سہہ سکیں۔ جی ہاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ذہنی اور جسمانی حالت کا پول دنیا کے سامنے کھل چکا ہے، جو بھارتی آرمی کی ناقص منصوبہ بندی کا بے سرا راگ اقوام عالم کے سامنے الاپ رہا ہے۔

تضادات سے بھرا بھارتی سماج اپنے میڈیا کے کینوس پر خوبصورت منظر کشی کرتے نہیں تھکتا، جب کہ درونِ خانہ بدصورت جنگل میں وحشی جانوروں کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے۔ اور یہ بات میں اتنے وثوق سے اس خبر کے بعد کررہی ہوں جب یہ انکشاف سامنے آیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ستمبر 2009 میں جب بھارتی فوجیوں میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہوا تو ”را“ کی طرف سے ایک شیطانی پلان ترتیب دیا گیا، جس کے تحت بھارتی فوج میں خاتون فوجیوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کیا گیا، جنھیں سرحدی گارڈوں کے طور پر نوکری دی گئی۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان خواتین کو بھارت سرکار کی فوجی ضرورتوں کے تحت نہیں بلکہ سیکس ورکر کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا، جس کا مقصد کشمیر میں موجود فوجیوں کو تفریح فراہم تھا۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ جس معاشرے میں عورت کو نحس وجود تصور کیا جاتا ہو وہ ملک اچانک ایک بڑی تعداد میں خاتون فوجیوں کو کیسے بھرتی کرسکتا تھا۔ معاملہ یونہی چلتا رہتا لیکن صورتحال اس وقت ابتر ہوگئی جب ایک خاتون فوجی جنسی زیادتی کے بعد حاملہ ہوگئی اور حمل ضائع کرنے کی سہولیات سے محروم ہونے کے باعث اسے اسی حالت میں ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے پایا گیا، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا اور اس کے نتیجے میں یہ دل دہلانے والی حقیقت سامنے آئی کہ بارڈر پر اپنے فرائض انجام دیتی 178 خاتون فوجیوں میں سے 63 غیر محفوظ جنسی سرگرمیوں کی وجہ سے سنگین طبی مسائل کا شکار ہیں۔

لیفٹیننٹ جرنل راج کمار اس کمیٹی کے ہیڈ تھے جس کی سفارشات کے نتیجے میں فوجی خواتین کو سیکس ورکر کے طور پر فورس میں تعینات کیا گیا تھا، تاکہ وہاں موجود مرد فوجیوں کو خوش کیا جاسکے۔ اس سارے منصوبہ کو سابق آرمی چیف دیپک کمار کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس حوالے سے انھوں نے وزیردفاع سے مشاورت کو بھی ضروری ن سمجھا۔ اس انسانیت سوز اقدام کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ 2008 میں فوجیوں کی خودکشی اور اپنے ساتھیوں پر تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث اب تک 151 خودکشی کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔

فوجیوں کے ذہنی انتشار کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جن میں بنیادی سہولیات کی کمی، طویل عرصے تک سرحدی متنازع علاقوں میں تعیناتی، کم تنخواہ اور اعلیٰ قیادت سے رابطے میں فقدان شامل ہے۔ لیکن اس سب کا آسان حل بھارتی فوجی قیادت نے عورت کی تذلیل کی صورت میں نکالا اور نوکری کی آڑ میں خواتین فوجیوں کے استحصال کا منصوبہ عمل میں لایا گیا۔

مشرقی کمانڈ ہیڈکوارٹر میں یہ ساری صورتحال کسی بم بھٹنے سے کم نہیں تھی۔ لہٰذا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں شمالی کمانڈ کے کمانڈر جنرل پریندر سنگھ نے شرکت کی۔ چوں کہ معاملہ بہت سنجیدہ نوعیت کا تھا۔ لہٰذا یہ طے پایا کہ معاملے کو نیو دہلی آرمی ہیڈ کواٹر میں چودہ اعلٰی کمانڈرز کے سامنے لایا جائے۔ یہ معاملہ ایک ایسے خطے سے متعلق تھا جو پہلے ہی ہائی پروفائل تنازعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ موجودہ آرمی چیف اس معاملے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔

دسمبر 2017 میں یہ مسئلہ اس وقت سنگین صورتحال اختیار کرگیا جب خاتون سپاہیوں کی طرف SIQ (Sick In Quarter) شکایات سامنے آئیں، جس میں باربار قے آنا اور سر درد شامل ہے۔ اس حوالے سے شکایات کی تعداد ڈرامائی طور سے بڑھ رہی تھی۔ لہٰذا خواتین سپاہیوں کو سرینگر میں واقع بادام باغ چھاؤنی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان خواتین سپاہیوں کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے، جس میں یہ حیرت انگیز صورتحال سامنے آئی کہ زیادہ تر فوجی خواتین حاملہ تھیں اور اکثر غیر محفوظ جنسی تعلق کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہوچکی تھیں۔

انڈین آرمی میڈیکل کور کی ایک ڈاکٹر کیپٹن جیوتی (رپورٹ کے مطابق شناخت چھپانے کی غرض سے ان خاتون کے لیے فرضی نام استعمال کیا گیا) نے انکشاف کیا کہ 63 خواتین فوجی، جنھیں آرمی بیس ہسپتال سے مختلف فیلڈ یونٹس میں بھیجا گیا تھا، وہ سب حاملہ تھیں۔ کیپٹن جیوتی کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیرمعمولی بات ہے کہ اُن خواتین فوجیوں میں 8 سے 10 ہفتوں کا حمل ٹیسٹ میں سامنے آیا ہے، جن کی پوسٹنگ کو ابھی صرف 12 سے 14 ہفتے ہوئے ہیں۔

38 خواتین معمولی بیماری کا شکار تھیں، لیکن وہ بیماریاں بھی غیر محفوظ جنسی تعلق کے نتیجے میں ہونے والی بیماریاں تھیں۔ بہرحال اس سنگین صورتحال پر قابو پانے کے لئے آرمی چیف کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں مسلح افواج کے میڈیکل سروسز ڈائریکٹر جنرل کو بھی دعوت دی گئی۔ اس اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے تحت ہنگامی بنیاد پر نو گائناکالوجسٹس کو کشمیر بھیجا گیا اور اس معاملے کو ممکنہ حد تک خفیہ رکھا گیا۔

اس ٹیم نے اب تک 56 خواتین فوجیوں کے حمل ضایع کیے جب کہ 7 کو ادھم پور ملٹری ہسپتال منتقل کردیا گیا، کیونکہ ان کی حالت تشویشناک تھی اور انھیں سنگین پیچیدہ سرجریوں کی ضرورت تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل بھارتی شرما کی سرپرستی میں گائناکولوجسٹس کی اس ٹیم نے نہ صرف فوجی خواتین کی مدد کی بلکہ انھیں محفوظ جنسی تعلق کی طریقوں کی بھی آگاہی۔

مقبوضہ کشمیر میں بطورگارڈ تعینات کی جانے والی ان خواتین کو خاص طور پسماندہ علاقوں سے لا کر بھرتی گیا تھا، تاکہ وہ اپنے حق کے لئے آواز نہ اٹھا سکیں۔ 2009 میں خاتون آفیسر پونم کپور کو صرف اس لئے ملازمت سے برطرف کردیا گیا کہ اس نے فوجی عدالت میں اپنے ساتھی فوجی اہلکاروں کے خلاف جنسی تشدد اور زیادتی کا مقدمہ دائر کیا تھا، لیکن اس مقدمہ کو جان بوجھ کر بوگس قرار دے دیا گیا اور ان فوجی اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ خاتون فوجی افسر کو بھاری جُرمانہ بھی ادا کرنا پڑا۔

خواتین کے حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے فوری طور پر خواتین فوجی اہلکاروں کی پوسٹنگ اور ان کے لئے انصاف کی فراہمی کو بہتر بنانے کی بجائے بھارت کی وزارت داخلہ نے بڑے پیمانے پر کنڈوم بنانے کی مشینیں بنانے اور انہیں سرحدی علاقوں میں بٹالین ہیڈکوارٹر میں نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات مرد اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل باآسانی کرسکیں اور خواتین فوجی اہلکاروں کو حاملہ ہونے سے بچایا جاسکے۔ بھارت کی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق سرحدی دور دراز علاقوں میں 1000 سے زائد کنڈوم مشینیں خرید کر نصب کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں کنڈوم فوجیوں میں ہر ماہ کی بنیاد پر مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔

بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جن میں گینگ ریپ بھی شامل ہے۔ اس ظالمانہ کارروائی کے نتیجے میں کتنی ہی خواتین کو موت کے گھاٹ کا اتارا جا چکا ہے۔ بارڈر پر تعینات بھارتی فوجیوں کی سفاکانہ کارروائیوں کا نشانہ بننے والے خاندانوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور یہ سب فقط مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں، بھارت کے دوسرے سرحدی علاقوں میں بھی کچھ ایسی ہی بھیانک صورتحال ہے، جن میں بھارت کی میانمار، بنگلہ دیش اور نیپال سے ملحق سرحدیں شامل ہیں۔ ان علاقوں کے دیہی باشندے بھارتی فوج کی بربریت سے بری طرح پریشان ہیں اور اپنی خواتین کو محفوظ نہیں سمجھتے۔

بھارتی فوجی اپنی ہوس کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ان علاقوں میں طوائفوں کو بھی بلاتے ہیں لیکن شدید جنسی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے انکشاف کے بعد ان طوائفوں کا سرحدی بارڈر فوجی چھاؤنیوں میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔ ساتھ ہی ان فوجیوں کے موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی عائد کردی گئی، جس کی وجہ سے بھارتی فوجیوں میں خودکشی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔ یہ فوجی نہ صرف اپنے آپ کو تکلف پہنچاتے ہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کردیتے ہیں۔ ایسے واقعات کو انڈین آرمی اپنی بدنامی کے خوف سے چھپالیتی ہے۔ موبائل فون پر پابندی کی ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ اس طرح فوجی مستقل اپنے گھر والوں سے رابطے میں رہتے ہیں اس لئے ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اس گمبھیر صورتحال کا شکار صرف سپاہی ہی نہیں اعلیٰ افسران بھی ہیں جو اپنی مرضی کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کی بڑی وجہ وہ بانڈ ہے جو بھارتی آرمی میں شمولیت کے وقت فوجیوں سے بھروایا جاتا ہے کہ اگر انھوں نے سروس چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو انھیں بھارت کی حکومت کو ایک بھاری رقم جرمانہ کے طور پر ادا کرنی ہوگی۔ ظاہر ہے ان میں سے اکثر اس بھاری رقم کو ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہی پچیس سالہ ایک خاتون آفیسر ششمیتا چکرورتی نے ادھم پور ہیڈکواٹر مقبوضہ کشمیر میں خودکشی کی تھی جو اس بات کا ذکر اپنے ساتھیوں سے کرچکی تھی کہ وہ اس نوکری کو عذاب تصور کرتی ہے، لیکن اس جال سے نکلنا اس کے بس میں نہیں ہے۔ یہ کہیں تو غلط نہیں ہوگا کا لوگوں پر ظلم ڈھاتی بھارتی فوج مکافات عمل کا شکار ہے۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...