ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

حضرت عمر فاروقؓ اور ایک عیسائی بھکاری

ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت عمرؓ بن خطاب گلی سے گزر رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک نابینا بوڑھا ہاتھ میں کشکول لیے بھیک مانگ رہا ہے۔ شکل و صورت سے ذمی معلوم ہوتا تھا۔ حضرت عمرؓ بن خطاب نے اس کے بازو پر ہلکی سی ضرب لگائی اور پوچھا ’’اہل کتاب کی کس قوم سے تیرا تعلق ہے؟‘‘ نابینا بھکاری: ’’یہودی ہوں۔‘‘ امیر المومنینؓ: ’’میں تجھے کشکول اٹھائے دیکھتا ہوں۔ آخر ماجرا کیا ہے؟‘‘ نابینا بھکاری: ’’ایک تو جزیہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ دوسرا میری زندگی کی ضروریات بھی ہیں‘ تیسرا میں بوڑھا ہوں اس لیے کما نہیں سکتا۔ پھر میری ضروریات زندگی کا مسئلہ کیسے حل ہو اور جزیہ کہاں سے ادا کروں؟ لہٰذا بھیک مانگ رہا ہوں۔ ‘‘
امیر المومنینؓ نے جب اس کی بات سنی‘ تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور ممکن حد تک مال عطا فرمایا۔
پھر بیت المال کے خازن کو بلا کر حکم دیا: ’’اس نابینا بوڑھے یہودی اور اسی طرح کے دوسرے اہل کتاب کا خوب خیال رکھو! اللہ کی قسم! ہم نے اس بوڑھے یہودی کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ اس کی جوانی میں تو ہم اس سے ٹیکس لیتے رہے، اب بڑھاپے میں اس کو ذلیل کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ’’یقینا صدقات و خیرات فقرا، مساکین کے لیے ہیں۔‘‘ (التوبہ: ۶۰) لہٰذا یہ بوڑھا نابینا اہل کتاب کے مسکینوں میں سے ہے۔‘‘ امیر المومنینؓ نے پھر بوڑھے اور اس کے مانند دوسرے ضعیف و غریب اہل کتاب پر سے جزیہ ساقط کر دیا۔

• حکمران اور رعایا:: حجاج بن یوسف، اموی گورنر کے زمانے میں جب لوگ صبح کو بیدار ہوتے اور ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی، تو باہم پوچھتے: گزشتہ رات کون قتل کیا گیا؟ کس کو پھانسی ہوئی؟ کس کو کوڑے لگے؟ اموی خلیفہ، ولید بن عبدالمالک کثیر مال و جائداد رکھنے والا اور عمارتیں بنانے کا شوقین تھا۔ چناںچہ اس کے زمانے میں لوگ ایک دوسرے سے مکانات کی تعمیرات، نہروں کی کھدائی اور درختوں کی افزائش کے متعلق پوچھا کرتے۔ جب اموی خلیفہ، سلیمان بن عبدالملک نے حکومت کی کرسی سنبھالی، تو وہ کھانے پینے اور گانے بجانے کا شوقین بھی نکلا۔ چناںچہ لوگ اچھے کھانوں، گانے والیوں اور لونڈیوں کے متعلق ایک دوسرے سے پوچھتے اور ان کا یہی موضوع سخن ہوتا۔
جب عمر بن عبدالعزیزؓ منصب خلافت کی زینت بنے، تو لوگوں کی آپس میں اس قسم کی گفتگو ہوتی… قرآن کتنا یاد کیا؟ ہر رات کتنا ورد کرتے ہو؟ رات کو کتنے نوافل پڑھتے ہو؟ فلاں شخص مہینے میں کتنے دن روزے سے رکھتا ہے؟کسی نے سچ کہا ہے: ’’عام لوگ بالعموم اپنے حکمرانوں کے طور طریقے اختیار کر لیتے ہیں۔‘‘

• اینٹ اور شراب :: شرابی ایک عالم دین سے: جناب مجھے بتائیے کہ اگر میں کھجوریں کھائوں، تو آپ کو کوئی اعتراض ہے؟ عالم: بالکل کوئی اعتراض نہیں۔ شرابی: اگر اس کے ساتھ کچھ جڑی بوٹیاں کھا لوں؟ عالم: کوئی رکاوٹ نہیں۔ شرابی: اگر میں ان میں پانی شامل کرلوں؟ عالم: بڑے شوق سے۔ شرابی: جب یہ ساری چیزیں جائز اور حلال ہیں، تو پھر آپ شراب کو کیوں حرام کہتے ہیں؟حالانکہ اس میں بھی یہی چیزیں شامل ہیں جن کے کھانے پینے کی اجازت آپ دے چکے۔ عالم: اگر تمھارے اوپر پانی پھینکا جائے، تو اس پر تمھیں کوئی اعتراض ہو گا؟ شرابی: ہرگز نہیں، پانی سے کیا فرق پڑتا ہے۔
عالم: اگر اس پانی میں مٹی گھول دی جائے تو تم مر جائو گے؟ شرابی: جناب! مٹی سے میں نے کسی کو مرتے نہیں دیکھا۔ عالم: اگر میں مٹی اور پانی لوں، انھیں گوندھ کر ایک اینٹ بنا لوں اور اسے خشک کر کے تمھیں دے ماروں، تو کیا تمھیں کوئی اعتراض ہے؟ شرابی: اس سے تو آپ مجھے قتل کر دیں گے؟ عالم: شراب کا بھی یہی حال ہے۔ وہ آخرکار انسان کو مارڈالتی ہے۔

• بہن بھائی :: ایک صاحب کا بیان ہے، ایک مرتبہ سفر کے دوران راستہ بھٹک گیا۔ چلتے چلتے بیاباں میں مجھے ایک گھر نظر آیا۔ میں قریب پہنچا، تو ایک اعرابیہ گھر کے اندر تھی۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی پوچھا: ’’تم کون ہو؟‘‘ میں نے جواب دیا: ’’مہمان۔‘‘ اعرابیہ نے میرے لیے کھانا حاضر کیا۔ میں کھانا تناول کرنے لگا۔ ابھی پانی پی رہا تھا کہ اتنے میں اس کا شوہر آیا اور پوچھا: ’’یہ کون ہے؟‘‘ عورت نے جواب دیا: ’’مہمان۔‘‘ شوہر نے کہا: ’’مہمان کا آنا نامبارک ہے۔ ہمیں مہمان نوازی سے کیا واسطہ؟ میں نے یہ بات سنی، تو اسی وقت اپنا راستہ لیا اور آگے چل پڑا۔ دوسرے دن بیابان ہی میں ایک جگہ دوسرا گھر نظر آیا۔ میں نے اس کا رخ کیا۔ دروازے پر پہنچا، تو وہاں ایک اعرابیہ کھڑی نظر آئی۔ اس نے پوچھا: ’’تم کون ہو؟‘‘ جواب دیا: ’’مہمان۔‘‘ اس نے کہا: مہمان کے لیے ہمارے ہاں کوئی گنجائش نہیں، اس کی آمد نامبارک ہے۔ اس دوران اعرابیہ کا شوہر پہنچا۔ جب اس نے مجھے دیکھا، تو پوچھا: ’’یہ کون ہے؟‘‘
عورت نے جواب دیا: مہمان ہے۔ شوہر نے بڑے پرتپاک انداز میں میرا استقبال کیا اور کہا: ’’مہمان کاآنا مبارک ہے۔ اسے اپنا ہی گھر سمجھو۔‘‘ اس نے پھر میرے لیے عمدہ اور لذیذ کھانا حاضر کیا۔ مزے سے کھانا تناول کرتے ہوئے مجھے کل کا واقعہ یاد آ گیا۔ چناںچہ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھا گئی۔ میزبان مجھے ہی تک رہا تھا۔ دریافت کیا: کیوں مسکرا رہے ہو؟ میں نے جواباً سارا قصہ اس کے گوش گزار کیا۔ اعرابیہ اور اس کے شوہر کی جو گفتگو سنی تھی، وہ بتائی۔ میزبان نے کہا ’’بھئی تعجب مت کرو! جس عورت کو کل تم نے دیکھا وہ میری بہن تھی اور اس کا شوہر میری بیوی کا بھائی ہے۔ چونکہ دونوں ایک ہی مٹی سے بنائے گئے‘ لہٰذا یکساں فطرت رکھتے ہیں۔‘‘

 

• انجامِ تکبر :: ایک مالدار شخص صفا اور مروہ کے درمیان گھوڑے پر سوار سعی کر رہا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب سعی مسجد حرام کے احاطے سے باہر تھی۔ اس کے اردگرد چھوٹے بڑے غلاموں اور نوکروں کا ہجوم تھا جس سے راستہ تنگ پڑ گیا۔ یہ دیکھ کر سعی کرنے والے دیگر لوگوں کو سخت غصہ آیا۔ وہ گھور گھور کر اس آدمی کو دیکھنے لگے جو خاصا لمبا تڑنگا تھا۔ اسی سال حج کرنے والوں میں سے کسی کی ملاقات چند برس بعد اس مالدار سے ہوئی۔ وہ اب بغداد کے پل پر بیٹھا بھیک مانگ رہا تھا۔ حاجی نے اس مالدار سے (جو اب بھکاری بن چکا تھا) کہا ’’تو وہی آدمی تو نہیں جس نے فلاں سال حج کیا اور تیرے اردگرد غلاموں اور نوکروں کا اس قدر ہجوم تھا کہ دیگر لوگوں کے لیے سعی کی جگہ کم پڑ رہی تھی۔‘‘
بھکاری نے جواب دیا ’’ہاں میں وہی ہوں۔‘‘ حاجی نے پوچھا ’’مگر تمھاری یہ حالت کیسے ہوئی؟‘‘ وہ بولا ’’میں نے اس جگہ کبرونخوت کو اختیار کیا جہاں متقی و پرہیز گار لوگ تواضع و انکسار اختیار کرتے ہیں۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس جگہ ذلیل خوار کر دیا جہاں گناہ گار معافی پا کر اعلیٰ مقام پاتے ہیں۔‘‘

• دندان شکن جواب:: حجاج بن یوسف ثقفی نے ایک عرب سردار، ابن فجاۃ کے بھائی کو گرفتار کرایا اور کہا ’’میں تجھے ضرور قتل کروں گا۔‘‘ قیدی نے عرض کیا ’’آخر سبب کیا ہے؟‘‘ حجاج نے کہا ’’تیرے بھائی نے میرے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کیا تھا۔‘‘ قیدی نے جواب دیا ’’میرے پاس امیر المومنینؓ کی جانب سے لکھا ہوا یہ ورق موجود ہے کہ میرے بھائی کی غلطی کی سزا مجھے نہیں ملے گی۔‘‘ حجاج بولا ’’لائو مجھے دکھائو۔‘‘ قیدی ’’میرے پاس امیر المومنینؓ کے خط کے علاوہ آسمانی خط بھی ہے۔ پھر کہنے لگا، میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ’’کوئی آدمی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ (الانعام:۱۶۴)
حجاج یہ دندان شکن جواب سن کر تعجب میں پڑ گیا اور آخرکار اس کو چھوڑ دیا۔

• مقروض بری ہوا :: ایک دفعہ شہرِ قاضی کے پاس کچھ لوگ ایک شخص کو پکڑے داخل ہوئے۔ قاضی نے پوچھا ’’کیا ماجرا ہے؟‘‘ وہ کہنے لگے ’’یہ ہمارا مقروض ہے۔ ہم اس سے قرض کی ادائی کے لیے کہہ رہے ہیں اور یہ ادا نہیں کرتا۔‘‘ قاضی نے مقروض کو حکم دیا کہ وہ قرض خواہوں کا قرض ادا کر دے۔ مقروض نے کہا ’’قاضی صاحب کی خیر ہو۔ میں نے ایک عمارت کرائے پر دے رکھی ہے۔ کچھ عرصے کی بات ہے‘ مجھے کرایہ ملنے والا ہے۔ جیسے ہی کرایہ ملا میں سب کا قرض ادا کر دوں گا۔‘‘
قاضی نے قرض خواہوں کی طرف استفسار بھری نگاہ سے دیکھا کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ قرض خواہ کہنے لگے ’’اللہ کی قسم! ہمارے علم میں، تو اس کی کوئی عمارت یا جائداد نہیں۔ یہ ہمیں ٹالنے کے لیے کہہ رہا ہے۔ حقیقت میں یہ مفلس اور قلاش ہے۔‘‘ قرض خواہوں کی بات سن کر قاضی مقروض کی طرف متوجہ ہوا اور کہا ’’اب تم جا سکتے ہو۔ لیکن اسی شہر میں رہنا ورنہ قید تمھارا مقدر بنے گی۔‘‘
یہ فیصلہ سن کر قرض خواہ چونک اٹھے اورکہنے لگے ’’قاضی صاحب! آپ نے یہ کیسا فیصلہ کر دیا؟‘‘ قاضی نے کہا ’’تم لوگوں نے خود ہی مقروض کے بارے میں گواہی دی ہے کہ اس کے پاس کوئی عمارت نہیں بلکہ یہ مفلس اور قلاش ہے۔ ظاہر ہے جب کوئی مفلس ہو جائے، تو وہ قرض کی رقم کہاں سے ادا کرے گا؟ بہرحال اسے مہلت دی ہے۔ شاید وہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہو کر قرض دینے کے قابل ہو سکے۔ اسے قید میں ڈالا، تو تمھیں کبھی رقم واپس نہیں ملے گی۔‘‘

 

• فرض شناسی :: پہلے عباسی خلیفہ، ابوالعباس سفاح کا ولی عہد اس کا بھائی، ابوجعفر منصور تھا۔ جب وہ طلبِ علم کے لیے ادھر اُدھر پھرا کرتا تھا، تو ایک دن ایسی منزل پر اترا جہاں ہر آدمی سے دو درہم محصول لیا جاتا۔ چوکیدار نے کہا ’’آپ محصول ادا کیے بغیر یہاں قیام پذیر نہیں ہو سکتے۔ منصور نے کہا ’’میں بنوہاشم میں سے اور ابوالعباس کا بھائی ہوں۔ محصول سے درگزر کرو۔‘‘ چوکیدار نے کہا ’’میں حکمِ حاکم سے مجبور ہوں۔‘‘ منصور نے کہا ’’میں رسول اللہﷺ کے چچا کے بیٹوں میں سے ہوں۔‘‘ چوکیدار نے کہا ’’جو آئین ہے، اس کے خلاف کس طرح عمل کر سکتا ہوں؟‘‘ منصور نے کہا ’’میں قرآن مجید جانتا ہوں۔ عالم، فقیہ اور ماہر فرائض ہوں۔ دو درہم کیا، میں ہزار ہزار درہم کاایک نکتہ بیان کروں گا۔‘‘ چوکیدار نے کہا ’’یہ سب صحیح، لیکن آئین سلطنت میں کسی کے ساتھ رواداری جائز نہیں۔ لہٰذا مجھے اس معاملے میں معذور سمجھو۔

اس تاریخی واقعے سے عیاں ہے کہ ایک ادنیٰ چوکیدار اپنے فرائض کی بجا آوری میں اس شخص کا کوئی لحاظ نہیں کرتا جو بنوہاشم میں سے ہے، عالم اور فقیہ ہے اور کچھ عرصے بعد خلیفہ بننے والا ہے۔  پاکستان میں کیا سرکاری و نجی ملازمین اپنے فرائض کی بجا آوری میں ایسی ہی مستعدی کے ساتھ قانون پسندی اور حریت کا اظہار کر رہے ہیں؟

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...