ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

’’میری لیلیٰ کمبوڈیا کے مندروں میں گُم ہو گئی‘‘ از مستنصر حسین تارڑ

کمبوڈیا کے شہر سیم ریپ کے انگ کورٹ واٹ مندروں کی سلطنت کے بھید مفت میں ہاتھ نہیں آتے ان میں داخلہ کے ٹکٹ ایک وسیع ٹکٹ گھر میں حاصل کیجئے جہاں سینکڑوں سیاحوں کا ہجوم ہے۔ آپ کی تصویر اتاری جاتی ہے اور اس ٹکٹ پر عکس کر دی جاتی ہے۔ ایک دن کی…

ہنری موہاٹ نام کا

1860ء میں ایک فرانسیسی سیاح کمبوڈیا کے شہر سیم ریپ میں آ نکلا اور اس نے وہاں گھنے جنگلوں میں نیم پوشیدہ ایک عظیم معبد کو دیکھا، جسے مقامی لوگ انگ کور واٹ کہتے تھے۔ ہنری موہاٹ اس کی کھنڈر ہوتی شانداری کو دیکھ کر گنگ رہ گیا۔ وطن واپسی پر اس…

’’راہب کیکڑا اور مصور آرٹ شارٹ‘‘

پچھلے چند برسوں سے میں تقریباً گوشہ نشین ہوں۔ سویرے سویرے ماڈل ٹائون پارک میں‘ پھر دوستوں سے فضول نوعیت کی گفتگو اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ فضول قسم کی گفتگو اور نیم فحش لطیفوں کا تبادلہ بھی انسان کو نارمل اور صحت مند رکھتا ہے۔ ہمہ وقت…

"ہیرا منڈی کے حق میں ایک کالم” از مستنصر حسین تارڑ

جیسے عدم نے کہا تھا کہ کون ہے جس نے مے نہیں  چکھی اور کون جھوٹی قسم کھاتا ہے تو اسی طور مجھ ایسے لاہوری بزرگوں میں سے کون ہے جو کبھی ہیرا منڈی نہیں گیا اور کون قسم کھا کر یہ کہہ سکتا ہے کہ میں وہاں سے نہیں گزرا…وہاں جانے یا گزرنے سے…

عمران خان پلیز۔ تبدیلی کے خرگوش برآمد کیجئےمستنصر حسین تارڑ

قارئین میں اچھا بھلا ویت نام سے کمبوڈیا پہنچ چکا تھا، شہر سیم ریپ کی شب میں ’’پب سٹریٹ‘‘ کی رنگینیوں کے بارے میں کالم باندھنے کو تھا جب ملک کے سیاسی کامیڈی تھیٹر میں کیا ہی لاجواب مزاحیہ کھیل پیش کیا جانے لگا۔ ایسی ایسی جگتیں کی جانے لگیں…

میں نے اسم محمد ﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت

سلیم کوثر سے میری آج تک ملاقات نہیں ہوئی لیکن اُس کی شاعری کے حسن اظہار اور اوج کمال سے میری بہت یاریاں ہیں۔ بے شمار قربتیں ہیں کہ میں جو عرف عام میں ایک شاعر بیزار شخص ہوں، سلیم بیزار اس لئے نہیں ہوں کہ وہ ایک میکانکی، قافیے ردیف کے اُکتا…