ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

فحش ویب سائٹس اور نوجوان نسل

ایک جاننے والے نے بتایا کہ فحش ویب سائٹس پر حقیقی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ یا تعلق ہو جسے جنسیت کا موضوع نہ بنایا گیا ہو. استاد اور شاگرد کا رشتہ، باس اور سیکرٹری کا رشتہ، گھریلو ملازمہ اور مالک مکان کا تعلق، پلمبر/مستری/مکینک/ویٹر وغیرہ اور خاتون خانہ کا تعلق، ڈاکٹر اور نرس کا تعلق، ڈاکٹر اور مریض کا تعلق، نرس اور مریض کا تعلق، حتی کہ سگے اور سوتیلے والدین کے ساتھ اولاد کا رشتہ، بہن بھائی کا رشتہ، بہن/بھائی/بیٹی/بیٹے کے دوستوں/سہیلیوں سے تعلق، ساس اور داماد کا رشتہ……

الغرض یہ کہ کوئی بھی رشتہ اور معاشرتی تعلق محفوظ نہیں چھوڑا گیا. ہر چلتی پھرتی لڑکی کو "پوٹینشل طوائف” بنا کر پیش کیا جاتا ہے. اب آپ خود سوچیں کہ یہ سب گند جو اب اسقدر عام ہے اور نہایت آسانی سے آپکے موبائل، ٹیب، لیپ ٹاپ وغیرہ پر محض دو چار کلکس کے فاصلے پر ہے…. اسے دیکھ کر ایک نوجوان جب گھر سے نکلے گا تو خواتین کو کس نظر سے دیکھے گا؟ اور خاص طور پر ان خواتیں کو جنکا حلیہ بھی ان سے ملتا جلتا ہو جن کو دیکھ کر ابھی وہ ہٹا ہے؟ اور وہ نوجوان جسکی شادی میں سو قسم کی رکاوٹیں ہیں؟ بلکہ باہر کو تو چھوڑیں، جھرجھری تو یہ سوچ کر آتی ہے کہ وہ اپنے گھر کی خواتین کو کس نظر سے دیکھتا ہو گا؟ اپنی ملازمہ کے بارے میں کیا سوچتا ہو گا؟ ہر لڑکی کو "بکاؤ مال” کیوں نہ سمجھے گا؟

 

ایک لڑکی کو ہر جگہ سیکشوؤل ہریسمنٹ کا دھڑکا کیوں لگا رہتا ہے؟ "می ٹو” کی اتنی بھرمار کیوں ہو گئی ہے؟ ہر مرد درندہ کیوں لگتا ہے؟ میاں کے بیوی سے مطالبات "گھناؤنے” کیوں ہو گئے ہیں؟ بیوی کی شوہر سے "توقعات” غیر حقیقت پسندانہ کیوں ہو گئی ہیں؟ شوہر باہر کیوں منہ ماری کرتا ہے؟ بیوی میں طوائف کیوں تلاش کرتا ہے؟ بیوی کو دوسرے مردوں میں کشش کیوں محسوس ہوتی ہے؟ وہ کسی سپر مین کی تلاش میں کیوں ہے؟

سکول، کالج، آفس، ورکشاپ، فیکٹری، حتی کہ عبادت گاہیں، حتی کہ حرم کعبہ…. جی ہاں چرچ، مندر، گردوارے اور حرم کعبہ تک رقص ابلیس سے کیوں آلودہ ہیں؟ ہم کس پستی تک پہنچ چکے ہیں اور کہاں تک مذید گرنا ہے، اسکی وجہ آپکے ہاتھ میں ہے، آپکی اولاد کے ہاتھ میں ہے اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ نہ آپکو علم ہے اور نہ پرواہ کے وہ اس پر کیا دیکھ رہے ہیں ….!!!

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...