ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

آنکھوں سے زنا

(اے پیغمبر!) آپ مومنوں کو ہدایت کیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے، بیشک اللہ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں۔ (سورۃ النور : آیت – 30)

اس سورت کا آغاز زنا کاروں کی سزا کے ذکر سے ہوا۔ یہاں ان راستوں کو ہی بند کیا جارہا ہے جو انسان کو اس جرم شنیع کی طرف لے جاتے ہیں۔ زنا سارے حواس سے ہی ہوتا ہے لیکن عموماً اس (زنا) کی ابتدا نظر سے ہوتی ہے۔ نظر بھی ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:  ’’ ابن آدم کے ذمے اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے جسے وہ لا محالہ حاصل کرے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، ہاتھوں کا زنا تھامنا ہے، پیروں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش، تمنا اور آرزو کرتا ہے ۔ پھر شرم گاہ یا تو سب کو سچا کر دیتی ہے یا سب کو جھوٹا بنا دیتی ہے‘‘ ۔  (البخاری)

اس لئے اس آیت میں شرمگاہ کی حفاظت سے پہلے نگاہوں کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے، چونکہ تمام واقعات کا آغاز نگاہوں سے ہوتا ہے۔ جس نے اپنی نگاہوں کو آزاد چھوڑ دیا، اس نے اپنے آپ کو ہلاکت کے منہ میں ڈالا، انسان کو پہنچنے والی عام مصیبتوں اور آفات میں سب سے پہلے نظر کے ذریعے ہی مصیبت اور پریشانیاں پہنچتی ہیں، جب انسان نظروں کی لاپرواہی کے سبب مصیبت میں پڑ جاتا ہے تو پھر اسے سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، وہ ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ اس پر اسے نہ صبر کرنے کی طاقت ہوتی ہے اور نہ اسے چھوڑنے کی، اور یہ انسان کے لئے سب سے بڑا عذاب ہوتا ہے۔ (ابن قیم ؒ : کتاب الجواب الکافی)

 

پس زنا سے بچنے کیلئے نگاہ نیچی رکھنا اور نگاہ کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ جب نگاہ کسی نامحرم کی طرف نہیں اٹھے گی تو دل میں اس کی طرف کشش پیدا نہ ہوگی۔ جب کشش ناپید ہوگی تو بدفعلی کا ارتکاب ہی بعید از قیاس ہوگا۔ آیت میں آنکھوں کو مطلقاً بند رکھنے کا حکم نہیں دیا جا رہا‘ بلکہ اس کی طرف آنکھ بھر کر دیکھنے سے روکا جا رہا ہے جس کی طرف دیکھنا حرام ہے۔

اگر بالفرض نظر پڑجائے تو بھی دوبارہ یا نظر بھر کر نہ دیکھو۔ صحیح مسلم میں ہے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نگاہ پڑ جانے کی بابت پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’ اپنی نگاہ فورا ہٹا لو‘‘ ۔ نیچی نگاہ کرنا اور اللہ کی حرام کردہ چیز کو نہ دیکھنا آیت کا مقصود ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ علی نظر پر نظر نہ جماؤ ، اچانک جو پڑگئی وہ تو معاف ہے، قصدا معاف نہیں‘‘ ۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الانعام میں فرماتے ہیں:وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ (انعام: 151) ’’بے حیائی کے قریب بھی مت جاؤ، خواہ وہ کھلی ہو یا چھپی۔‘‘

محرمات کو نہ دیکھنے سے دل پاک ہوتا ہے اور دین صاف ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی نگاہ حرام چیزوں پر نہیں ڈالتے ، اللہ ان کی آنکھوں میں نور بھر دیتا ہے‘ ان کے دل بھی نورانی کر دیتا ہے اور ان کی روح کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ’’ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ‘‘ یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے

یعنی نگاہوں اور شرمگاہ کی حفاظت نفس کے لئے زیادہ پاکیزہ اور دین کے لئے زیادہ مفید اور مومن کے لئے دنیا و آخرت میں زیادہ کارآمد ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں چھ چیزوں کے تم ضامن ہو جاؤ‘ میں تمہارے لئے جنت کا ضامن ہوتا ہوں ۔  (1) بات کرتے ہوئے جھوٹ نہ بولو، (2) امانت میں خیانت نہ کرو، (3) وعدہ خلافی نہ کرو، (4) نظر نیچی رکھو، (5) ہاتھوں کو ظلم سے بچائے رکھو اور (6) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے رو دے، گو اس میں سے آنسو صرف مکھی کے سر کے برابر ہی نکلا ہو۔ اکثر سلف لڑکوں کو گھورا گھاری سے بھی منع کرتے تھے۔ اکثر ائمہ صوفیہ نے اس بارے میں بہت کچھ سختی کی ہے۔ اہل علم کی جماعت نے اس کو مطلق حرام کہا ہے اور بعض نے اسے بھی کبیرہ گناہ فرمایا ہے۔

ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  ’’کوئی مرد دوسرے مرد کی شرم گاہ نہ دیکھے، نہ ہی کوئی عورت کسی عورت کی شرم گاہ دیکھے۔ نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے‘‘۔  (مسلم‘ باب الحیض، تحریم النظر الی لعورات:338)

اللہ تعالیٰ کا ہر حکم رحمت ہے اور انسانیت کی فلاح و بہوبود کیلئے ہے۔ یہاں اس آیت میں اللہ تعالیٰ غض بصر یعنی نگاہوں کو نیچی رکھنے اور شرم گاہ کی حفاظت کا حکم بندوں پر مشقت کے طور پر ہرگز نہیں دیا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے ایک عظیم رحمت ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس باب کو کھول دیتے یعنی بندوں کو اختلاط اور غیر محرم عورتوں سے ملنے جلنے کی عام اجازت ہوتی تو عزتیں پامال ہوتیں، حسب ونسب کا خیال نہ رہتا اور روئے زمین میں فساد مچ جاتا۔

 

اللہ تعالیٰ نے بدنگاہی اور نظربازی کو حرام کیا ہے۔ بد نگاہی معاشرے کا ناشور ہے اور کسی بھی معاشرے کیلئے ایک بڑی لعنت ہے۔ بد نگاہی کرنے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے لیکن افسوس کہ آج بعض مسلمان اسے کبیرہ گناہ سمجھنے کی بجائے اس حکم الٰہی کا مذاق اڑاتے ہیں اور بعض اس کی تاویل (justification) پیش کرتے ہیں۔  ایسے بے غیرت اور ہٹ دھرم لوگ کہتے ہیں کہ ہم عورتوں کو محض اس لیے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ شے کی تعریف کریں ۔ لاحول ولا قوۃ الاباللہ۔ کیا پوری کائنات کو دیکھ کر انہیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنا نہیں آتی ؟ کیا غیر عورتوں کو دیکھ کر ہی انہیں اللہ رب العزت کی تعریف یاد آتی ہے؟ کیا ایسے لوگ اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کی طرف ایسی پُر ہوس اور تعریفی نظروں کا اٹھنا پسند کریں گے؟ اگر عورتیں بے پردہ ہو کر بازاروں میں گھومتی ہیں تو وہ اپنے آپ کوجہنم کا ایندھن بنا رہی ہیں۔

بے حیائی، بے شرمی اور بے پردگی کے اس پر فتن دور میں بد نگا ہی جس قدر پھل پھول رہی ہے وہ کسی سے پو شیدہ نہیں ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو آنکھ کی ہولناکیوں سے بچے ہوئے ہیں وگرنہ کیا بچے، کیا جوان، کیا بوڑھے سب آنکھوں کی اس کبیرہ گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جوان تو جوان رہے اب بڑوں اور بوڑھوں کی آنکھوں میں بھی حیاء نہیں رہا۔ معاشرے کی اس قبیح حرکت اور بدترین عادت نے پوری قوم کا اخلاق تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔  جس کے نتیجہ میں اغوا، گینگ، ریپ (زنا) اور ظلم و زیادتی کے واقعات میں روزانہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جعلی عشق و مستی اور جھوٹی محبت کے عہد و پیمان ہوتے ہیں ، کبھی ایک فریق اپنی پسندیدہ شے نہ ملنے پر خود کشی کر لیتا ہے۔ لیکن کبھی کسی نے یہ سوچا کہ اس کا انجام کیا ہوگا ؟ معاشرہ پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟

 

میڈیا نے آج کی عورت کو بے حیا بنا دیا ہے اور ننگا کر چھوڑا ہے۔ پرنٹ میڈیا پر اور سڑک پر لگے بڑے بڑے اشتہارات میں بھی عورتوں کی برہنہ اخلاق سے گری، فحاش اور نیم عریاں لباس میں تصاویر لگی نظر اتی ہیں ۔ ہمارے اخبارات، رسائل، جرائد، میگزین ایسی تصاویرسے بھرے پڑے ہیں۔ اس کے علاوہ آج ہر ہاتھ میں موبائل موجود ہے جس میں عورت کو ہر زاویے سے برہنہ دیکھنا کوئی مشکل نہیں رہا۔

ایسے میں اس بدنگاہی کی کبیرہ گناہ سے بچنے کیلئے ضروری ہے اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا جائے، گناہ کو گناہ سمجھا جائے اور اس سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ اللہ کا خوف دل میں ہو اور اس بات پر ایمان ہو کہ ’’ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ  بیشک اللہ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں‘‘ اور يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ ﴿١٩﴾ (المؤمن :19)  ’’ وه (اللہ) آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے‘‘

اے اللہ !  محض اپنی رحمت سے اس پر فتن دور میں ہمیں اور ہماری اہل و عیال کو آنکھوں کی خیانت سے محفوظ رکھنا کیونکہ آنکھوں کی خیانت کو اور دل میں چھپے باتوں کو تو خوب جانتا ہے۔ (آمین)

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...